عنوان سے اس غلط فہمی میں نہ رہئیں کہ میں محترم حبیب جالب کی مشہور نظم کی
مدد سے کسی غاصب، قابض یا منجمد سیاسی منظرنامے کی پس پردہ جامدسوچ پر قلم
گھسائی کا ارادہ رکھتا ہوں ۔آخرالذکرعناصر ریاستیں اور حکومتیں نہ رکھنے
کے باوجود بھی ہزاروں زندگیوں کی سدھار اور بگاڑ میں براہ راست ملوث ہیں ۔
اپوزیشن ہوتے ہوئے بھی حکومت سے تگڑی ہیں ۔ ان کے نظریات کا گھیراؤ ریاست
کے بیانیہ سے زیادہ اورگہرا ہے ہم جیسے لوگ کلیات سے متفق نہ ہونے کے
باوجود بھی بنیاد ی نکتے پر اتفاق رکھتے ہیں ۔ حکومت اور ریاستی بند و بست
سے ناامیدی نہیں بلکہ یقین واثق ہے کہ بندوبست بنام’ اسلامی
Showing posts with label آزادی بیان. Show all posts
Showing posts with label آزادی بیان. Show all posts

جب آزادی کی کہانی لکھوں گا
قاضی داد محمد ریحان
مجھے افسوس ہے
دل کی گہرائیوں سے
اپنے اُن خوابوں پر
جو میں نے بندوبست پاکستان میں مساوات کے
لیے
اپنے لڑکپن کی دہلیز پر دیکھے تھے
سبز انقلاب کا خواب
جس کا کوپا جماعت اسلامی نے میری آنکھوں
پر چڑھایا تھا
افسوس ہے اپنی اس معصومیت پر
جب میں نے اخترمینگل کو بلوچوں کا مسیحا
جان کر اس کی تعریف کے پُل باندھے تھے
افسوس ہے اپنی جوانی کا آڑھے ترچھے راستوں
میں لاپتہ ہونے کا
Powered by Blogger.

