Showing posts with label شھید اُستاد ،کندیل بلوچ. Show all posts
Showing posts with label شھید اُستاد ،کندیل بلوچ. Show all posts
شہید اُستاد صبا دشتیاری کی شہادت کے بعد آپ کو آزادی پسندقوم دوست جماعتوں کے اتحاد بی این ایف نے دی ٹیچر آف نیشنل فریڈ م یعنی معلم قومی آزادی جس کا بلوچی ترجمہ آجوئی درونت دئے کیا جاسکتاہے جب کہ بلوچ مسلح حریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے شہید اُستاد کو کندیل بلوچ کا خطاب دیا گیا ۔بی ایل اے کی طرف سے اب تک قومی خدمات کے اعتراف میں صرف تین شہداءکو خطا ب دیئے گئے ہیں جن میں شہید اکبر کوڈاڈائے بلوچ، شہید امیر بخش لانگو کو سگار بلوچ اور شہید اُستاد صبا دشتیاری کو کندیل بلوچ کا خطاب شامل ہیں۔

بی این ایف کے خطاب کی نسبت قوم میں بی ایل اے کے دیئے گئے خطاب کو پذیرائی ملنے کی وجہ غالبا ً خطاب کا بلوچی زبان میں ہونا بھی ہے اس کے علاوہ یہ خطاب آپ کے خدمات سے مطابقت بھی رکھتا ہے ۔اس خطاب کی وجوہات عام فہم ہیں۔

ہمارے لڑکپن میں ادبی حلقوں سے وابستہ افراد آپ کا تعارف عموماًایسے پیرائے میں کرتے تھے کہ آپ کا علمی کردار دھند لاجاتا اورآپ کے برعکس ایک مہجول سی شخصیت کا خاکہ ذہن میں ابھرتا۔ہمارایہی غیر علمی رویہ ہے کہ ہم آپ جیسی شخصیات کی زندگی میں آپ سے اس قدر استفادہ نہیں کر پاتے جتنا کرسکتے ہیں۔شہید اُستاد سےمیری پہلی ملاقات ایک علمی ملاقات کی بجائے راہ چلتے شخص سے کندھے ٹھکراکر گزرنےجیسی ہی رہی ۔ذہن پر آپ سے متعلق وہی خیالات حاوی رہے جو ہمارے ناپختہ ذہنی برتنوں میں بھرے گئے تھے۔ہمارے جماعتی تربیت کاروں نے سونا اور کوئلے کوایک ہی ترازو میں تول کر بلوچ ادیبوں سے ہمیں متنفر کرنے کا جو کام کیا تھا اس کا بھی کافی اثر تھا۔مجھے اس ملاقات کے تین سال بعد ادراک ہو اکہ ہم ایک عظیم مدبر او ر عہد ساز استاد کے زمانے میں ان خوش بختوں میں سے ہیں جوآپ سے براہ راست میل ملاقاتوںمیں وہ باتیں بھی دریافت کر سکتے ہیں جو ابھی تک صفحہ قرطاس پر بکھر کر کسی کتاب کا حصہ نہیں بنی ہیں ۔کتابیں اُس وقت انسانوں سے اہم ہوتیں جب انسان ان کا تخلیق ہوتا دراصل کتابوں میں انسانوں ہی کے افکار بھرے ہیں۔ علمی مباحث سے علم کے نئے دریچے کھلتے اور ایسے نکتے ہاتھ لگتے ہیں جو بعد میں کتابوں کی صورت خزینہ علم میں جمع ہوجاتے ہیں ۔
اجارہ داری تعلیمی نظام میں فن خوب پنپتا ہے مگر علم متعین حدود سے آگے نہیں بڑھتا جس کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنا خدا کا وجود ۔بلوچستان کے تعلیم وادب کے حوالے سے کئی بڑے علماءکی یہی رائے رہی ہے جن میں ھدامرزی واجہ شیر محمد مری ، واجہ محمد صدیق آزاد اور شہید اُستاد جیسے نمایاں اکابرین شامل ہیں ”بلوچستان کے ادب پر بیوروکریٹس کا غلبہ ہے جو اپنے غلامانہ مزاج کے مطابق بلوچی ادب کی پرورش کرنا چاہتے ہیں۔“ایسا نہیں کہ بڑی تعداد میں بیوروکریٹس ادیب بنے بلوچی ادب کوبراہ راست اپنی ذہنی گندگی سے آلودہ کررہے ہیں بلکہ یہ کام نہایت ہوشیاری سے خفیہ سامراجی فنڈز کے ذریعے انجام دیا جارہاہے تاکہ کارپوریٹک ادب توانا اور حقیقی ادب نعیف ہو ۔دنیا میں ادب میں شاید کم مگر ادب کی رشتہ دار صحافت میں یہی کچھ ہورہاہے جس کا ہم بلوچی ادب کے حوالے سے ذکر کررہے ہیں ۔اس متعلق یہ مقولہ کافی مشہور ہے کہ ”اشتہارات جرائد کی سانسیں ہیں “۔اس طرح کے جرائد پڑھنے والوں سے رشتے جوڑنے کی بجائے انہی اداروں سے تعلقات استوار کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں جو اشتہارات مہیا کرتے ہیں۔ جو ایسی جگہ سر مایہ کاری کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے جہاں انہیں اپنی سوچ کے مطابق اپنے سر مایہ کا غلط استعمال ہونے کا شک ہو۔شہید اُستاد ( صبا دشتیاری ) تمام عمراسی سازش کے خلاف ڈٹے رہے ۔

گھنگرایالے بالوںوالے اس لڑکے میں پیدائشی طور پر او ر کوئی خاص بات تو نہیں تھی سوائے اس کے کہ ان کا رنگ اپنے خاندان کے دیگر لوگوں سے ذرا اُجلا تھا ۔اُن کو بھی ”واجہ اور بانک “کے مخصوص لفظ سکھائے گئے جو اس زمانے میں ہر غلام فرزندکو سکھائے جاتے تھے ۔ گوکہ وہ اس زمانے میں جنمے جب گورے آقاﺅں کے سر کاری حکم کی وجہ سے کوئی شخص آزادانہ طور پر غلام رکھنے کا دعوی نہیں کرسکتا تھایا شاید خو”و اجھان“ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ ”ٹی اور ٹینگان “کو قابل مشقت بنانے کے لیے اپنے جھوٹے کھلاسکیں۔ کافی عرصہ غلاموں کو آزادانہ زندگی بسر کرنے کی عادت ڈالنے میں بھی لگی ،یہ اسی زمانے کا سنگم تھا ۔
انسانوں کے ساتھ گل وخشت جیسا برتاﺅ کرنے والے سماج نے ان کو بھی اپنے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔جب وہ پیدا ہوئے ہوں گے شاید ہی ان کے خاندان نے ”بانک اور واجھان “کی روایت نبھا کر ان کے منہ میں شہد ٹپکا یا ہو .......................بھلا غلام کبھی خواب دیکھتے ہیں !۔
Powered by Blogger.