شہید اُستاد صبا دشتیاری کی شہادت کے بعد آپ کو آزادی پسندقوم دوست جماعتوں کے اتحاد بی این ایف نے دی ٹیچر آف نیشنل فریڈ م یعنی معلم قومی آزادی جس کا بلوچی ترجمہ آجوئی درونت دئے کیا جاسکتاہے جب کہ بلوچ مسلح حریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے شہید اُستاد کو کندیل بلوچ کا خطاب دیا گیا ۔بی ایل اے کی طرف سے اب تک قومی خدمات کے اعتراف میں صرف تین شہداءکو خطا ب دیئے گئے ہیں جن میں شہید اکبر کوڈاڈائے بلوچ، شہید امیر بخش لانگو کو سگار بلوچ اور شہید اُستاد صبا دشتیاری کو کندیل بلوچ کا خطاب شامل ہیں۔ بی این ایف کے خطاب کی نسبت قوم میں بی ایل اے کے دیئے گئے خطاب کو پذیرائی ملنے کی وجہ غالبا ً خطاب کا بلوچی زبان میں ہونا بھی ہے اس کے علاوہ یہ خطاب آپ کے خدمات سے مطابقت بھی رکھتا ہے ۔اس خطاب کی وجوہات عام فہم ہیں۔
گھنگرایالے بالوںوالے اس لڑکے میں پیدائشی طور پر او ر کوئی خاص بات تو نہیں تھی سوائے اس کے کہ ان کا رنگ اپنے خاندان کے دیگر لوگوں سے ذرا اُجلا تھا ۔اُن کو بھی ”واجہ اور بانک “کے مخصوص لفظ سکھائے گئے جو اس زمانے میں ہر غلام فرزندکو سکھائے جاتے تھے ۔ گوکہ وہ اس زمانے میں جنمے جب گورے آقاﺅں کے سر کاری حکم کی وجہ سے کوئی شخص آزادانہ طور پر غلام رکھنے کا دعوی نہیں کرسکتا تھایا شاید خو”و اجھان“ میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ ”ٹی اور ٹینگان “کو قابل مشقت بنانے کے لیے اپنے جھوٹے کھلاسکیں۔ کافی عرصہ غلاموں کو آزادانہ زندگی بسر کرنے کی عادت ڈالنے میں بھی لگی ،یہ اسی زمانے کا سنگم تھا ۔
انسانوں کے ساتھ گل وخشت جیسا برتاﺅ کرنے والے سماج نے ان کو بھی اپنے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی ۔جب وہ پیدا ہوئے ہوں گے شاید ہی ان کے خاندان نے ”بانک اور واجھان “کی روایت نبھا کر ان کے منہ میں شہد ٹپکا یا ہو .......................بھلا غلام کبھی خواب دیکھتے ہیں !۔