سات صفحات پر مشتمل یہ خط میں نے تقریباً ایک سال پہلے تحریکی دوستوں کے نام لکھا ، یہ خط تحریک سے وابستہ تمام دوستوں کو انفرادی طور پر ان کے ای میلز کے ذریعے ارسال کرچکا ہوں ۔ اس خط میں جن خدشات کا اظہار کرچکا ہوں آج حقیقت بن چکے ہیں ۔ میڈیا میں بہت ساری باتیں شائع ہونے کے بعد اس خط سے کچھ اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔
جو تحریکی ساتھی تفصیلی خط کی کاپی حاصل کرنا چاہتے ہیں مجھ سے فیس بک پر رابطہ کریں ۔
-------------------------------------------------------------
تحریکی سنگتاں !
اُمید ہے کہ شگفتہ دمی کے ساتھ مصروف عمل ہوں گے ۔ زیر نظر مندرجات جنہیں میں گزشتہ ڈھائی مہینے سے لکھتا مٹاتا رہاہوں آپ کو ارسال کرنے کا مقصد تحریکی سنگتانی درمیان ایک مکالمہ کا آغاز کرنا ہے تاکہ ذہنوں میں موجود خلفشار ختم ہوں اور ہم صاف ذہن کے ساتھ اپنے مقصد کی برآوری کے لیے اپنی طاقت اور صلاحیتوں کوایک ایسے مرکز میں جمع کرنے کے قابل ہوں جوانہیں بہترطریقے سے قومی آزادی کے حصول میں کھپا سکے ۔ مندرجات ایک پریشان اور بے خبر ذہن کی پیداوار ہیں لیکن احساس رہے کہ ہم جیسے سینکڑوں پریشان حال کامیابی کی آس بھی لگائے بیٹھے ہیں ۔ زندگی کا آخری لمحہ اس خواب کی تعبیر میں صرف کرنے کی خواہش بھی ہے جو ہم نے مل کر دیکھا ہے ۔ ظاہر ہے یہ مندرجات کسی اخبارکے لیے نہیں اس لیے انہیں ایک دوست کا شکوہ سمجھ کر پڑھ لیں اور غلطیوں پر اصلاح کریں ۔

