Showing posts with label نمدی/خطوط. Show all posts
Showing posts with label نمدی/خطوط. Show all posts

سات صفحات پر مشتمل یہ خط میں نے تقریباً ایک سال پہلے تحریکی دوستوں کے نام لکھا ، یہ خط تحریک سے وابستہ تمام دوستوں کو انفرادی طور پر ان کے ای میلز کے ذریعے ارسال کرچکا ہوں ۔ اس خط میں جن خدشات کا اظہار کرچکا ہوں آج حقیقت بن چکے ہیں ۔ میڈیا میں بہت ساری باتیں شائع ہونے کے بعد اس خط سے کچھ اقتباس قارئین کی خدمت میں پیش کررہا ہوں ۔
جو تحریکی ساتھی تفصیلی خط کی کاپی حاصل کرنا چاہتے ہیں مجھ سے فیس بک پر رابطہ کریں ۔
 -------------------------------------------------------------

تحریکی سنگتاں !

اُمید ہے کہ شگفتہ دمی کے ساتھ مصروف عمل ہوں گے ۔ زیر نظر مندرجات جنہیں میں گزشتہ ڈھائی مہینے سے لکھتا مٹاتا رہاہوں آپ کو ارسال کرنے کا مقصد تحریکی سنگتانی درمیان ایک مکالمہ کا آغاز کرنا ہے تاکہ ذہنوں میں موجود خلفشار ختم ہوں اور ہم صاف ذہن کے ساتھ اپنے مقصد کی برآوری کے لیے اپنی طاقت اور صلاحیتوں کوایک ایسے مرکز میں جمع کرنے کے قابل ہوں جوانہیں بہترطریقے سے قومی آزادی کے حصول میں کھپا سکے ۔ مندرجات ایک پریشان اور بے خبر ذہن کی پیداوار ہیں لیکن احساس رہے کہ ہم جیسے سینکڑوں پریشان حال کامیابی کی آس بھی لگائے بیٹھے ہیں ۔ زندگی کا آخری لمحہ اس خواب کی تعبیر میں صرف کرنے کی خواہش بھی ہے جو ہم نے مل کر دیکھا ہے ۔ ظاہر ہے یہ مندرجات کسی اخبارکے لیے نہیں اس لیے انہیں ایک دوست کا شکوہ سمجھ کر پڑھ لیں اور غلطیوں پر اصلاح کریں ۔

محترم ،کشورنائید
اُمید ہے کہ شگفتہ ہوں گی ۔
آپ کا ، کالم ’’ ہم لسانی بنیادوں پر چلنے والوں کے ساتھ نہیں ‘‘ نظر گزار ہوا ۔ کالم کے دیگرمندرجات اور تارپود پر بوجوہ بحث نہیں کرنا چاہتا نہ ہی اخباری کالم کے ساتھ غیر صحافتی رویے سے نمنٹنے کی پاکستان کے نام نہاد صحافتی فیشن پر تنقید کی نیت رکھتا ہوں بلکہ اسی پر عمل پیرا ہوکر آپ کے مذکورہ کالم پر جس میں آپ نے بلوچستان کاذکرکر کے حقائق کو اپنے جذبات کے تابع بنانے کی سعی لاحاصل کی ہے،اپنے ردعمل کا اظہار کرنا چاہتاہوں۔

ہم نوعمری سے جس کشور نائید کوجانتے ہیں،وہ ہمارے لیے


بی این ایم کے سیکریٹری اطلاعات کا روزنامہ مقدمہ کراچی کے سالگرہ کے موقع پر پیغام

محترم جناب مبشر فاروق
ایڈیٹر روزنامہ مقدمہ کراچی
امید ہے کہ خوش وخرم ہوں گے ۔
مربی جناب ابوبکر بلوچ کاپیغام ملا کہ روزنامہ مقدمہ اپنے قلمی سفر کے دو سال مکمل ہونے کے قریب ہے ۔ادارہ کی خواہش ہے کہ بلوچ سیاسی جماعتیں بھی ادارے کے سالگرہ کے موقع پر اپنا پیغام ارسال کریں تو اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجودچند الفاظ لکھنا ضروری سمجھا ۔
بلوچستان میں روزنامہ مقدمہ دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کے باقاعدہ مطالعے سے محروم ہیں ۔لیکن ادارہ مقدمہ نے جدید دور سے ہم آہنگ ہوکر اس کمی کو کافی حد تک پورا کیا ہے ۔جب بھی فرصت ملتی ہے مقدمہ کے ویب سائٹ پر خبروں کی سر خیوں سے استفادہ کرتے ہیں ۔انٹر نیٹ پر اخبار کے عکس میں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ بلوچستان کی خبروں کونمایاں کورریج دی جاتی ہے جوکہ بلوچستان سے متعلق پاکستان کے دیگر صحافتی اداروں کے رویے سے

Powered by Blogger.