Showing posts with label تاریخ. Show all posts
Showing posts with label تاریخ. Show all posts


چُک اِیں بلوچانی: بلوچ قبیلہ سے لے کر قومی تشکیل تک ، ایک مطالعاتی تبصرہ

تیسراحصہ 

دوسراحصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

بلوچ قومی شناخت کی قدامت:

سیدھاشمی کے اس واضح دعوی کو نہ جھٹلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو اسی طرح قبول کرنا ممکن ہے جس طرح
سیدہاشمی فرماتے ہیں ۔ کیوں کہ مورخین نے ایرانی تاریخ کو جس طرح بیان کیا ہے اس کی بنیاد پر ہم تمام ادوار کو تاریخی واقعات اور سلسلہ حکومتوں کے ذریعے کڑی در کڑی پیوست کرکے ایک زنجیر کی صورت دے سکتے ہیں۔ اس مختصر مضمون میں وہ تمام رشتوں کی تفصیل دینا ممکن نہیں جو اس عظیم سلسلہ حکومت کی تشکیل کا باعث بنے
چُک اِیں بلوچانی:بلوچ قبیلہ سے لے کر قومی تشکیل تک ، ایک مطالعاتی تبصرہ

 دوسرا حصہ



بلوچ شناخت کی قدامت:

  بلوچ موجودہ نسلی آمیزش، مہاجرت در مہاجرت ، آبادکاریوں اور نئے قومی ڈھانچے میں ڈھلنے سے پہلے عظیم ایرانی قوم کا حصہ تھا ۔ بلوچوں کے بارے میں اس دعوے کو مکمل رد کیا گیا ہے کہ بلوچ عربی النسل قوم ہے البتہ جس طرح بلوچوں میں دیگر نسلوں کی آمیزش موجود ہے اسی طرح عرب گروہ بھی قلیل تعداد میں بلوچ قوم کاحصہ بن چکے ہوں گے لیکن جس طرح بلوچوں نے موجودہ مشرقی بلوچستان کے وسطی علاقوں میں مبینہ طور پر دراوڑی قبایل کو اپنے اندر ضم کیا ، سندھی قوم کے ساتھ ثقافتی اورنسلی رشتے قائم کیے، پنجاب کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے وہاں نوآدیاں قائم کی اور سرائیکی شناخت کا محرک بنے، ہندوستان سے ہنرپیشہ افراد جم غفیر کی صورت بلوچستان اور بلوچ قومی
پہلا حصہ 
بلوچ بطور قبیلہ:

بلوچ ایک قوم ہے ، قومیں مساعد اور نامساعدحالات میں اپنے تشخص ، اقدار اور قومی یک جہتی کے لیے کوشش کرتی ہیں ۔ قومیں مختلف حادثات اور واقعات کی وجہ سے بنی ہیں ۔ بنیادی طور پر بیشتراقوام کی جڑیں ایک ہیں جیسے کہ بلوچ قوم ماضی کی پارسی قوم کا حصہ تھی، جس کی اپنی ایک جداگانہ تاریخ بھی ہے ۔ قومی ڈھانچے کی تشکیل صدیوں میں ہوتی ہے جو قبیلہ کسی بڑی قومی اکائی سے علیحدہ ہوکر نئی شناخت کے سانچے میں ڈھلتا ہے وہ اس سے پہلے قومی صفات کے حوالے سے نمو پاچکا ہوتا ہے ۔اس عمل کے لیے ضروری سیاسی قوت اسے حاصل ہوچکی ہوتی ہے اور قومی وفاق کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اس کی
Powered by Blogger.