Showing posts with label بلوچ سیاست ‘وحالات. Show all posts
Showing posts with label بلوچ سیاست ‘وحالات. Show all posts

قابض پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ خواتین کا اغوا اور انہیں لاپتہ کرکے ٹارچرسیلز میں ڈالنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ۔ ماضی میں روابط کی کمزورویوں اور میڈیا کی غیرموجودگی میں ایسے واقعات کو بآسانی دبایا جاتا تھا ۔لیکن موجودہ تحریک کے ابھار اور متحرک قوم دوست جماعتوں کی وجہ سے اب ایسے واقعات منظرعام پر آرہے ہیں۔ جس سے نا صرف بین الاقوامی برداری ان پاکستانی مظالم سے آگاہ ہورہی ہے بلکہ بندوبست پاکستان کی عوام بھی بتتدریج بلوچستان پرقابض فورسز کی زیادتیوں کے بارے میں جان کر بلوچ تحریک کی حقانیت کو تسلیم کررہی ہے ۔ اس لیے ڈاکٹراللہ نزر بلوچ کی اہلیہ ، بچی اور ان کے ساتھ دیگر خواتین کا اغوا وسیع پیمانے پر پاکستانی فورسز کی سبکی کا باعث بنا۔یہاں تک کہ پاکستان کے ٹاؤٹ بھی اس کے دفاع کرنے میں ناکام رہے اور پاکستانی سینٹ کے اجلاس میں بھی بعض سینٹرز نے اس پر اپنی تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ  کیا ۔

جنگ بہترچناؤ ہے نہ کسی مسئلے کا حل ۔ جنگ آخری فیصلہ اور مسئلے کو اُجاگر کرنے کا محض ذریعہ ہے ۔ محکوم اقوام کی تحریک میں سیاسی حل کی کوششوں کی پے درپی ناکامیاں جنگ کو ناگزیز بنادیتی ہیں ۔ بلوچ تحریک آزادی کی تاریخ اور پاکستانی مقتدر پنجابی فوج کی زیادتیاں مسلح جہد کو جواز فراہم کرتی ہیں ۔ سیاسی تحریک اور دہشت گردی میں فرق یہ ہے کہ دہشت گرد اپنی دہشت پھیلانے کے لیے وقتی اور ایسے مقاصد کو لیے خون ریزی کرتے ہیں جن کا پرامن حل موجود ہو تا ہے ۔ دہشت گردوں کا نشانہ عام افراد ہوتے ہیں جب کے سیاسی تحریکوں میں ریاستی طاقت کو کمزور کرنے کے لیے  عوامی طاقت واضح اہداف کے خلاف استعمال کی جاتی ہے ۔
بلوچ سیاست کے حوالے سے پارلیمان پسند کی اصطلاح ماضی کے اُن قوم دوستوں کے لیے ہے جو کسی زمانے میں پاکستانی پارلیمنٹ میں جانا کفر سمجھتے تھے جن میں سے ایک کا مقبول نعرہ ’’ ما ووٹ نہ لوٹ اِیں ، ھون لوٹ اِیں ‘‘ ( ہمیں ووٹ نہیں خون چاہئیے)آ ج بھی بھوت بن کراُس کا پیچھا کررہا ہے وہ چاہتی تو ہے کہ اس نعرے کی بھوت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دے لیکن ابھی تک وہ خودآدھا تیتراور آدھا بٹیر ہے ، چار ستارے اپنے جھنڈے پر سجانے کے
بی این پی مینگل کی طرف سے بندوبستی الیکشن میں شرکت کے بعد بلوچستان کے سیاسی منظر نامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے ۔ سردار عطا ء اللہ مینگل کا شمار بلوچستان کے بااثر شخصیات میں ہوتا ہے۔ ایک قدر آور سیاستدان کی حیثیت سے اُن کا بندوبست کی حمایت میں ڈالا گیا وزن بندوبستی مقتدرہ کے لیے اطمینان بخش ہے ۔  بلوچ قوم دوستوں اور لشکر بلوچستان ( جس کی تشکیل بی این پی ہی کے کارکنان نے کی ہے ) کی طرف سے دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے اخترمینگل کی بلوچستان آمد اور یہاں الیکشن کی سرگرمیوں میں شمولیت سے بلوچستان میں بننے والی آئندہ کٹھ پتلی حکومت کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر اعلی اختر مینگل ہوں گے ۔

اگر پاکستانی فوج کو ذرہ بر ابر بھی شک ہے کہ اخترمینگل کی حکومت اس کے لیے آئندہ رکاوٹ کا باعث بن سکتی ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ اگلی حکومت میں بی این پی نہ تین میں ہوگی نہ تیرہ میں ۔ لیکن یہ بات
اسلم کی تحریروں کو پڑھنے کے لیے ایک سیاسی کارکن کو کافی حوصلے کی ضرورت ہے ، اسی طرح اُن پر تنقید کرنا بھی آسان نہیں ، وجہ یہ نہیں کہ موصوف تنقید کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتے بلکہ ان کا اظہار بیان تنقید کی راہئیں محدود کردیتا ہے ۔ ان کی تحریریں پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے آپ آسمانی صحیفے پڑھ رہے ہوں ’’ مطلق سچ ‘‘ کا گھمنڈ ان کی تحریروں میں گلا پھاڑ کر بولتا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ہرحال میں اپنی بات منوانے چاہتے ہوں ، یہ بھی کہ وہ بیک وقت بہت سارے معاملات کو لے کر بحث کرتے ہیں ، وہ معاملات اور کرداروں کو الگ الگ رکھ کر ان پر بحث کرنے کی بجائے سب کو ایک ہی جگہ ڈھیر کردیتے ہیں ، جس میں تنقید کے لیے کچھ چننا کٹھن کام ہے ،ہر ایک جملہ ایک الگ مضمون کا محتاج ہے،کوشش ہے جتنے چیزوں کوالگ کیا جاسکے ، الگ کرکے پیش کرسکوں ۔

میرے ذہن میں شہید واجہ کے الفاظ گونج رہے ہیں ’’ بی آر پی اگر ناکام ہوگئی تو ہم بھی ناکام ہوں گے ، وہ ڈوب گئی تو پھر ہمارا بچنابھی ممکن نہیں...................‘‘ ہم نے اختلاف کیا ہمارا خیال تھا کہ ہمیں محض بی این ایم کے استحکام پر توجہ دینا چاہئے ۔ یہ بیماری آئستہ آئستہ تمام بلوچ قوم دوست جماعتوں اور تنظیموں میں سرایت کرگئی ہم ایک دوسرے سے لاتعلق ہوتے ہوتے اب دشمنی کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں ۔ آپسی اختلافات کو میڈیا پر اُچھال کر ایسی گندگی پھیلائی گئی ہے کہ سب کے دامن پر بدنما داغ صاف نظر آرہے ہیں ۔
 کچھ رویے ، غیر تحریری پالیسی ، نعروں اور شعار کوبلوچ جھدکاروں میں مقبول دیکھ کر میں اکثر حیران ہوجاتا ہوں کہ آخروہ کونسے عناصر ہیں جو ان کو ایک ایسے راستے کی طرف دھکیل رہے ہیں جو بلوچ قوم دوست جماعتوں کی پالیسیوں کا حصہ نہیں ۔ یہ کیسے نعرے ان کے منہ میں ٹھونس دیئے گئے ہیں جن کا قومی تحریک دور کی بات بلوچ قوم سے بھی کوئی نسبت نہیں ۔ ہمارے اپنے ہی کارکنان کو اس قدر جذباتی اُبال دیا گیا تھا کہ اُن سے اُٹھتےبھاپ کی تپش سے اچھے اچھے لیڈر قریب نہیں ہوپاتے تھے ۔ اس رویے کی بیخ کنی کے لیے میں نے کئی مرتبہ اپنے پارٹی کے قائدین سے بات کی اور اس کے تدارک کے لیے سنجیدہ کوششوں پر اتفاق بھی کیا گیا، پروگرامات بھی ترتیب دیئے گئے  جو چند زون میں تجرباتی طور پر انتہائی



 روزنامہ توار میں ھیربیار کے انٹرویوکے بعد وش ٹی وی نے براھمدگ کا انٹرویو نشر کیا جس میں انہوں نے اپنے سابقہ موقف کو دہرایا ۔براھمدگ کے انٹرویوکے مندرجات کو پڑھتے ہوئے اختلاف رائے کے باجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی باتیں سیاسی اور دلائل پر مبنی ہیں ۔جانے کیوں براھمدگ کی باتیں سن کر میرے کانوں میں ہمیشہ بلوچ بابا کا وہ جملہ گونجتا ہے جو انہوں نے اپنے ایک انٹریومیں براھمدگ کے متعلق کہا تھا : ’’ براھمدگ ابھی بچہ ہے ۔ ‘‘ لیکن ان کے گزشتہ بیان اوربی بی زامرکے شہادت کے بعد غیرجذباتی ردعمل نے ثابت کیا ہے گوکہ براھمدگ نوعمر ہیں لیکن وقت اور حالات نے انہیں بہت کچھ سکھادیا ہے ۔ ہمیں براھمدگ کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اُن کے سیاسی اتالیق ’’ شہید اکبر ‘‘ اور نظریاتی اُستاد ’’ شہید بالاچ ‘‘ تھے ۔ شہید اکبر جیسے اُستاد کے شاگرد سے جن کے کٹر مخالفین بھی اُن کے سیاسی تدبر، علمی مرتبہ اور ادراک کے قائل ہیں ، اس سے زیادہ

روزنامہ توار میں شائع شدہ جناب ھیربیار کے انٹرویو میں سپریم کورٹ میں اغوء کیے گئے بلوچوں کا کیس ، ملالہ پر طالبان حملے سے متعلق پاکستان کے مذہبی جماعتوں کی سوچ سے ملتی خیال آرائی اوراخترجان کی سپریم کورٹ میں پیشی جیسے کچھ تازہ واقعات پر تبصروں کے علاوہ تحریک بلوچستان کے حوالے سے کوئی نئی بات نہیں کی گئی ہے ماسوائے براھمدگ سے اخباری شکوہ کے جس پربلوچ صحافتی ( کالم نویس ) اور قوم دوست حلقے ملے جلے تاثر کا اظہار کررہے ہیں ۔ ھیربیار نے اپنے انٹرویو میں جس طرح کے شکوے شکایتیں کی ہیں وہ

اخترجان کے آمد و رفت پر بہت کچھ لکھا اوربولا جارہاہے ، بی بی سی اُردو نے بھی اپنے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں اُن سے براہ راست پوچھنے کا موقع فراہم کیا ، اُن کے دلائل کس قدر اطمینان بخش ہیں، فرصت ملا تو آئندہ نشست میں اس پر بھی بات کریں گے،پہلے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو بلوچ سیاسی کارکنان اور آزادی پسند جھدکاران کے حلقوں میں دلچسپی اور وسوسے کا باعث ہے ، بیشتر تجزیہ نگارتجربات کی روشنی میں بات کرتے ہیں یا ذاتی خواہشات کی ہو بہو تعبیر چاہتے ہیں اس لیے سیاسی پیشن گوئیاں مصدقہ معلومات کے بغیر عموماً پیرپگارومرحوم کی بذلہ گوئی اور لال حویلی کے بانکے شیخو کی گپیں ثابت ہوتی ہیں ۔ان کے علاوہ یہ کہ ’’ سیاستدان کی باتوں کو نہیں اُن کے عمل کو دیکھو ‘‘ یا ’’ تیل دیکھ اور اس کی
6 جولائی 2012کڈان کے قریب ھورشولی کے مقام پر ایران کے زیر انتظام مغربی بلوچستان سے آنے والے مسافروں کوایک عارضی قیام گاہ پر نشانہ بنا یا گیا ۔ اس حملے میں 18بے گناہ افراد ہلاک ہوئے ۔اخباری اطلاعات کے مطابق مرنے والوں میں 13کا تعلق پنجاب اور 5کا افغانستان سے تھا۔
جنگ زدہ بلوچستان میں سرمچاروں نے یہ اعلان کررکھاہے کہ دشمن علاقہ پنجاب کے رہنے

توجہ :یہ مضمون بلوچی زبان میں وب بلاگwww.bamhalblog.blogspot.comمیں شائع ہوا ہے ۔اُردو ترجمہ اُن قارئین کے لیے ہے جو بلوچی پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے ، پڑھ نہیں سکتے یا انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رکھتے ۔بلوچی پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ اسے بلوچی میں پڑھ کر شکریہ کاموقع دیں ۔
 ___________________________

امریکن ایوان نمائندگان کے ممبر لووس گھمرٹ نے

یہ باتیں دہرانے کا کوئی حاصل نہیں کہ کراچی کے بلوچ دنیا کے ایک بڑے شہر میں آباد ہونے کے باوجودجنگلیوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ماضی میں بڑے شہر تہذیب کا منبع اور علم کے مرکز ہوتے تھے مگر اب جتنے بڑے شہر ہیں ان کے سماج بھی اتنے ہی پست ہیں۔ بے ہنگم طریقے سے پھیلے ہوئے ان شہروں میں روزانہ ایک آدھ قتل اور چوری ڈکیتی کے لاتعداد واقعات کو بدامنی کے زمرے میں شمار نہیں کیا جاتا ۔ مذکورہ شہروں میں بسنے والوں کا ماننا ہے کہ یہاں ایسی کسی کمیونٹی کو گھاس تک نہیں ڈالی نہیں جاتی جو خیالوں ، کتابوں کی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے خبط میں مبتلا ہو ، جو سیاست کواُصولوں کے تابع اور شہر کو اپنا گھر سمجھ کر اس میں بسنے والے کے لیے برادرانہ جذبہ رکھتا ہو ، جو اپنے اس ادراک کو من مندر میں بھگوان بنا کرپوجتا ہو کہ اتنے بڑے شہر میں امن و آشتی سے رہنے کا گر یہی ہے کہ دوسروں کا احترام کرؤاور بدلے میں احترام لو اور اسی طرح کے تمام خوبصورت خیالات اس کے بھیجے میں ہوں تو

سلیم صافی قومیت کے پختون ہیں،ان کاشماربندو بست پاکستان کے منجھے ہوئے نوجوان صحافیوں میں کیا جاتا ہے ۔موصوف نے صحافتی سفرکا آغازپاکستان ٹیلی ویژن(پی ٹی وسی ) سے کیا ۔حکومت اور ان کے وزراء کے بیانات پر سرکاری ٹی وی پربیٹھ کر بےلاگ تبصر ے کرنے کی وجہ سے مشہور ہوئے ،اسی شہرت نے انہیں اُکسایااور سرکاری صحافت چھوڑ کر پاکستان کے پیشہ ور ’’کارپوکریٹ صحافت‘‘ سے نتھی ہوگئے ۔آج کل جنگ گروپ سے وابستہ ہیں جیو نیوز کے ’ ’ جرگہ ‘‘ نامی
بلوچستان میں پنجابی فوج کے ’’آپریشن سائیلنس‘‘کی شدت میں گزشتہ تین سا ل سے کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی ۔ ’’آپریشن سائیلنس ‘‘ پاکستان کے پنجابی مقتدرہ کے مفاد کے تحفظ اور بلوچ قوم دوستوں کے خلاف شروع کی جانے والی اس جارحیت کا کوڈ نام رکھا گیا ہے جس کے تحت گزشتہ تین سال سے روزانہ کی بنیاد پر پنجاب شاہی پاکستانی فوج ، ایف سی ، آئی ایس آئی ، ایم آئی اور دیگر اداروں اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے بلوچ سیاسی کارکنان اور رہنماؤں کو مجرمانہ طریقے سے ماورائے قانون گرفتاری کے بعداُنہیں بلوچستان کے طول وعرض پر پھیلے ہوئے نیول چھاؤنیوں ، فوجی چھاؤنیوں ، کوسٹ گارڈاور ایف سی کیمپوں اور فوجی قیام گاہوں میں واقع عقوبت خانوں میں تشدد کے ذریعے شہید کرنے کے بعد لاشیں سڑکوں اور ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں ۔گزشتہ ایک سال کے عرصے میں اس جارحیت کے نتیجے میں دوسو کے لگ بھگ سیاسی کارکنان کو شہید کر کے اُن کی مسخ لاشیں پھینکی
خطے میں افغانستان کی سرزمین واحد ایسی جگہ ہے جسے بلوچ پر مصائب حالات میں مہاجرت کا ٹھکانہ بناتے ہیں گوکہ وہاں بلوچوں کو عیاشی کی وہ زندگی میسر نہیں جو یورپی او ر خلیجی ممالک میں پناہ ڈھونڈنے والے بلوچوں کو حاصل ہے، پھر بھی یہ خاک بسر بلوچوں کے لیے ایک سہارہ ہے ۔ہم نے بلوچی کے اس بتل (مقولہ )کو عقیدے کے طور پربزرگوں سے سن رکھا ہے ” تاسے آپ بہ ور سد سال وپا بہ کن “ ( ایک کٹورہ پانی پی کر سوسال تک وفادار رہنا )جو میرے نزدیک بلوچوں کی گم گشتہ نظریاتی وحقیقی ثقافت ( ثقافت دو طرح کی ہوتی ہیں ایک مادی یعنی اُن چیزوں پر مشتمل جو ایک قوم استعمال کرتی ہے اور دوسری اُن نظریات پر مشتمل جو کسی قوم کی ہوتی ہیں ۔چیزیں بیشتر وہی ہیں جودوسرے اقوام بھی استعمال کرتی ہیں مگر نظریات ہر قوم کے مختلف ہیں اسی بنیاد پر میں نظریاتی ثقافت کو حقیقی ثقافت قرار دیتا ہوں )کے چند انگلیوں پر گنے جانے والی باقیات میں سے
نیشنل پارٹی کو بلوچ آزادپسند قوتوں سے ہمیشہ یہ گلہ رہی ہے کہ دیگر نام نہاد قوم دوست جماعتوں ( لفظ نام نہاد کا استعمال محض نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ علمی بنیاد پر کرنے پر مجبور ہوں کہ وہ جماعتیں جو قومی آزادی کی تحریک چلارہی ہیں انہیں اصطلاحا قوم دوست کہا جاتا ہے۔ آزادی کے بعدیہ جماعتیں بھی قوم دوست نہیں رہتیں چے جائے کہ ان میں قوم دوستی کا عنصر ختم نہیں ہوتا لیکن اس وقت ہم بات سیاسی اصطلاحات کی کررہے ہیں )کی نسبت زیادہ تنقید کا نشا نہ بنایا جاتاہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے وہ قومی غدار جنہوں نے نیشنل پارٹی کی چھتر سایہ میں پناہ لے رکھی ہے بلوچ سر مچاروں کی سزاءسے محفوظ رہے ہیں۔ بلوچستان میں ایسا کوئی واقعہ میرے علم نہیں کہ نیشنل پارٹی کے کسی کارکن کو غداری کا الزام لگاکر قتل کردیا گیا ہو حالانکہ ان کے فوجی واسلام آباد کی اسٹبلشمنٹ سے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔مشرف دور میں یہ تعلقات شہری حکومت کے نظام میں شراکت داری کے بہانے ہوتے تھے اب ٹھیکہ داری ، صحافت اور این جی اوز وغیرہم کی آڑ میں یہ کاروبار چلایا جارہاہے ۔
بلوچستان کی آبادی قبائلی ‘نیم قبائلی اور غیر قبائلی علاقوں میں منقسم ہونے کے باوجودمجموعی طور پر قوم دوستانہ جذبات رکھتی ہے(یہاں” قبائلی
“سے مراد قبائلی پہچان نہیں بلکہ وہ سماجی ڈھانچہ مراد ہے جس میں قبائل ایک سردار کے تابع ہوتے ہیں ۔ جہاں سردار مطلق طاقتور اور ناقابل چیلنج ہیں وہ علاقے ”قبائلی “ ، جہاںسردار کی گرفت محض اپنے ملازمین تک ہی محدود ہے وہ علاقے ”نیم قبائلی “اور جہاں سردار برائے نام بھی باقی نہیں اُن علاقوں کے لیے غیر قبائلی علاقے کااصطلاح استعمال کیا گیاہے ۔قبائلی علاقے اور غیر قبائلی علاقوں کی خطہ وار تقسیم ہوسکتی ہے لیکن نیم قبائلی وغیر قبائلی علاقے کی خطہ واری تقسیم میں ہونے والی غلطی سے بچنے کے لیے راقم کواس نئے اصطلاح کی ضرورت محسوس ہوئی ‘بحث پاکستان کے زیر انتظام بلوچستان سے متعلق ہے) لیکن غیر قبائلی علاقے کی آبادی فطرتاًسیاسی طورپربالیدہ سمجھی جاتی ہے۔بلوچستا ن کی تحریک آزادی کے اصلاح کنندگان نے اپنی نئی صف بندی میں جنگ وسیاست کو باہم مربوط رکھنے کے لیے سیاسی وجنگجو عناصرمیں ایک دوسرے کی قبولیت کے لیے شعوری کوششیں کیں ۔سیاستدانوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ عسکری جدوجہد کی کھل کر حمایت کی اور
گوادر کے رہائشی احمدداد کے متعلق سرکاری پروپیگنڈہ مشینری نے اتنا کا م کیاہے کہ اُن کی سماجی، سیاسی ،ادبی اور صحافتی شناخت دھندلا گئی ہے ۔اُن پر بم دھماکوں ،راکٹ باری اور دہشت گردی کے اتنے جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے ہیں کہ گوادر کا کوئی ذی ہوش شہری ایسا نہیں کہ جو یہ نہ سمجھتا ہو کہ احمد داد کا تعلق بلوچ مسلح حریت پسندوں سے ہے جب کہ اس میں سچائی محض اس قدر ہے کہ وہ گوادر کے اُن چند نوجوانوں میں شامل ہیں جنہو ں نے گوادر میں غیر مقامیوں کی آبادکاری اور بلوچوں کو اُن کی سر زمین سے بے دخل کرنے کی مقتدر پنجابیوں کے کالونیل سازش کو بے نقاب کرنے میں کردار اداکیا ۔انہوں نے گوادر کے بلوچوں کی سیاسی قوت کو بڑھانے اور ان کو اپنی شناخت کا احساس دلانے کے لیے ان کے بلوچستان کے دیگرعلاقوں کے ساتھ کمزور رشتوں کو مضبوط کیا۔ایک نڈر سیاستدان جو اپنا حق نہ صرف پہنچانتے ہیں بلکہ دوسروں کو حقوق کی آگھی دینے میں اپنے ہم خیال دوستوں میں سب سے زیادہ متحرک

بلوچ نیشنل موومنٹ کی قیادت نے پارٹی کو بحران سے نکالنے کے لیے ’’قیادت سے رضاکارانہ دست برداری ‘‘کاجرأت مندانہ وتاریخی فیصلہ کیالیکن کچھ عناصر نے اس سے مثبت نتائج حاصل کرنے کی بجائے اس کو منفی سمت میں موڑ دیا۔نجی محافل او ر اخبارات میں اس طر ح کے بیانات دیئے گئے کہ جیسے ایک دھڑے نے پارٹی کوتوڑ کر ایک نئی پارٹی کے قیام کااعلان کر کے قومی غداری کا ارتکاب کیا ہو ۔یہ سر ٹیفکٹ بھی اس وقت جاری کیا جانا چاہئے تھاکہ جب جد اہونے والادھڑا پارٹی کے بنیادی اساس کے برعکس نیا راستہ اختیارکر لیتا( تب ہی تو ہمارے شہید قائد نے واجہ قادر بلوچ کی بلوچ وطن موومنٹ کو نہ صرف قبو ل کیا بلکہ چند دوستوں کی شدید مخالفت کے باوجود بی این ایف میں بھی نمائندگی دی‘جنہوں نے اختلاف کی بنیاد پر بی این ایم سے نکال کر نئی پارٹی بنائی تھی ) لیکن نہ مستعفی اراکین نے کسی نئی پارٹی کے قیام کا اعلان کیا ہے نہ نظریہ آزادی سے اپنی وابستگی ختم کیے ہیں بلکہ اس امکان ( پارٹی تقسیم ) کو ختم کرنے کے لیے اپنی کردار کو بھی

Powered by Blogger.