Showing posts with label سیاستِ رقیب۔ اُردو. Show all posts
Showing posts with label سیاستِ رقیب۔ اُردو. Show all posts
پاکستانی فوج نے اپنی رعونت سے بلوچستان کے سیاسی مسئلے کو جنگ کی طرف دھکیل دیا . نیشنل پارٹی، بی این پی(مینگل- عوامی)،  نام نہاد مذہبی جماعتوں،  کرایے کے بلوچ بیوروکریسی ، جراہم پیشہ گروہ اور سرداروں نے اپنے اپنے وقتی مفادات
’’بلوچی بتل ’’زوراکے آپ برزءَ تچ اِیت‘‘(طاقتور کا پانی بالائی سمت بہتا ہے )آج صدیوں گزرنے کے باوجود بھی سچ ہے ۔‘‘ گزشتہدومئی کو ایبٹ آباد میں امریکن کارروائی اس کی نمایاں مثال ہے جس پر پوری پاکستانی میڈیا اور خود کو وطن پاکستان کے خیرخواہ سمجھنے والے صحافتی برزجمہرسیخ پاہوکرمہینوں بین الاقوامی قوانین کی دہائیاں دیتے رہے۔ مگر کیا پاکستان واقعی ایسا ملک ہے جس کی کسی بات کو سنجیدہ لیاجائے یا دنیا اس کے’’ صاحب الرائے طبقے‘‘ کو دانشور وں کے معیار پر قبول کرتی ہے ؟

پاکستانی بندوبست کے حدود میں سند ھ کے علاوہ بلوچستان نامی ایک اور خطہ زمین بھی ہے جہا ں کے عوام دومارچ کو دنیا بھرمیں اپنے یوم ثقافت کے طور پر مناتے ہیں ۔ یہ بندوبست پاکستان میں قومیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی زند ہ مثال ہےکہ جب بلوچوں نے دومارچ کو عالمی طور پر یوم ثقافت منانے کا اعلان کیا تواسے خنداں پیشانی سےقبول کرنے کی بجائے ریاستی

نیشنل پارٹی کے رہنماءڈاکٹر یاسین کا احسان شاہ کے خلاف اب کہ انتخابات کو دوسال قریب ہونے کوہیں جعلی ڈگری کا مقدمہ درج کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ پاکستان کے اصل حکمران بلوچستان میں جاری اپنے کھیل کونیا رخ دینے کے لیے مہرے بدلنا چاہتے ہیں ۔نیشنل پارٹی کی موجودہ قیادت قبل ازیں بھی یہی کردار اداکرنے کو تیار تھی لیکن اس وقت پارٹی میں کئی عناصر ایسے موجودتھے جو نیشنل پارٹی کی قیادت کے لیے اندرونی طور پر چیلنج کا باعث تھے جن کے لیے قیادت نے صبر وتحمل کا مظاہر ہ کیا ۔سردار زہری نیشنل پارٹی پارلیمنٹرین بنا کر اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ انہوں نے حقیقی نیشنل پارٹی کی سیاست کو ناکام کر کے سر کار کے لیے اس کا متبادل انتظا م کرلیاہے لیکن وقت نے دکھا دیا کہ زہری صاحب بہر حا ل قبائلی کے قبائلی ہی رہے اور سیاست کے میدان میں بی ایس او کے ترقی پسند کیڈر کو شکست دینے میں ناکام ثابت ہوئے۔ اسی طرح سیاسی اُفق پر ڈاکٹر حئی اور کچکول کے سورج بھی مدہم ہوتے ہوتے غروب ہوگئے یا پھر ان کے لیے نیشنل پارٹی کی سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے گئے اب شاید انہیں گوشہ نشین یا پھر بادل نخواستہ کسی دوسری طرف رُخ کرنا پڑے گا کیوں کہ نیشنل پارٹی کے وہ قائدین جو اپنے اس پرانے آرزو کو دل میں دبائے بڑی سست رفتاری اور احتیاط کے ساتھ اس مقام پر پہنچنے میں کا میاب ہوئے ہیں یہی سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ شراکت کا حق اُن لوگوں کو قطعاًحاصل نہیں جن کے بارے میں ذرا بھی شبہ ہے کہ وہ

حکمران انسانوں کے ایسے طبقے سے متعلق ہیں جوجدےددور میں بھی طاقت ہی کو ریاست کامنبع تصور کرتے ہیں ۔ جنگ وجدل ہی دنےاکی تاریخ ہے مشہور کہاوت ہے کہ" جنگ نے بادشاہ جنی ہے ۔"جن کی سرگزشت دنےاکی تاریخ ہے ۔ا س نظریہ کوجبروقوت

(Theory of force)


کہاجاتاہے ۔گوکہ آج کے دور مےں انسانیت کی فلاح وبہبود ریاست کااوّلین مقصد قراردیاگیاہے ۔دنیابھر کے ممالک خود کوانسانی حقوق کا چمپئن سمجھتے ہیں۔کسی ملک کا دوسری ملک کے بارے میں یہی کہنا ہی سب سے بڑی گالی ہے کہ "وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے ۔



دنیاکے بیان وعمل میں تضاد نمایاں ہے آج پوری دنیاکے حکمران جبراًاپنی ریاستوں کوقائم ودائم رکھناچاہتے ہیں بلکہ دنیاکی سپرطاقت امریکہ اپنی طاقت کے بل پردنیاپر بلاشرکت غیر حکمرانی کرنے کاخواہش مند ہے ۔دنیانے نسلی اختلافات ختم کرنے کے لئے طویل تحریک چلائی ہی لیکن آج کی دنیا میں نسل پرستی پھراپنی نئی شکل میں عروج پرہے جس میں ہر کوئی اپنی بقاءو نشونماکے لئے دوسری قوم کو نقصان دینے کے درپے ہے

Powered by Blogger.