Showing posts with label بلوچستان نامہ. Show all posts
Showing posts with label بلوچستان نامہ. Show all posts
بلوچستان کے مرکزی شہر شال میں ہڈیوں کے گودے تک اترنی والے سرد موسم کا آغاز ہوچکا ہے لیکن یہ سرد موسم بھی ایک بہن کی محبت کی گرمی کم نہ کرسکی اور نہ ہی ایک بیوی کو اپنے لاپتہ شوہر کے لیے آواز اُٹھانے سے روک پائی ۔ موسم بدلتے ہیں، عام لوگوں پر شاید ان کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا لیکن جن کے پیارے لاپتہ ہیں ان کے لیے ہر گزرتا دن ایک عذاب ہے۔ کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ ان کے پیاروں کی شبیہ ان کے ذہن کے پردے پر نمودار نہ ہو ، کھانے کے ذائقے پیکھے ، تفریح اور تہوار کی خوشیاں ماتم کنان ہوتی ہیں ۔ دسترخوان پر ہر ایک نوالہ اُٹھاتے ہوئے آنکھیں اُس پیارے کو تلاش کرتی ہیں اور یہ خیال ان نوالوں کو زہر بنادیتا ہے کہ ہمارے جگرگوشہ نے کھانا کھایا ہوگا بھی کہ نہیں ؟ میں تو آج یہ لذید کھانے کھارہا ہوں اور وہ جانے کس حال میں ہے ؟ نرم بستر بھی کانٹوں کی طرح چھبتا ہے کہ میراجگرگوشہ جانے ٹارچرچیمبرمیں کس طرح کی اذیتیں سہہ رہا ہے ۔ 

میں نے چیئرمین زاہدجان کے نام سے ٹارچرچیمبر سے خیالی خطوط لکھے تھا ، ایک خط شبیر کے نام تھا ، شبیر نے مجھے بتایا کہ اس جگہ جہاں میں نے زاہد کی پیاس کی شدت اور پانی کے طلب کا ذکر کیا تھا ، پڑھتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں اور میری آنکھیں شبیر کانام سنتے ہی دھندلاجاتی ہیں ۔ میں جس نے بمشکل چند دن ، چند گھنٹے شیر کے ساتھ گزارے ہیں ، ہمارے درمیان اکثر فون پر ہی باتیں ہوتی تھیں مگر میں ان سمیت اپنے اسیردوستوں کا ذکر سن کر یا سوچ کر بے چین  ہوجاتا ہوں ، تو ایک ماں ، بہن ، باپ ، بھائی ، بیوی ، بیٹی اور بیٹے کی کیا حالت ہوگی ؟

یہ ایک تصویر جس میں ایک بہن اور بیوی ، رورو کر حکمرانوں سے اپنے پیارے کی بازیابی کا مطالبہ کررہی ہیں ، اس احساس کو بیان کرنے کی ایک کوشش ہے لیکن مکمل درد کا احاطہ کرنے سے یہ تصویر بھی قاصر ہے ۔ درد کی جو ٹھیس ان دلوں سے اُٹھتی ہیں ،یہ وہی جانتے ہیں جن پر گزررہی ہے ۔ لیکن ہمارے معاشرے پر خوف نے ایسی بے حسی طاری کی ہے کہ ہم ان آنسوؤں کو پونچھنے اور ان کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنے کے لیے بھی تیار نہیں ۔ 

بلوچی زبان میں سوتیلی ماں اور سوتیلے باپ کے لیے الفاظ ہیں لیکن سوتیلے بھائی اور سوتیلی بہن کے لیے کوئی لفظ نہیں کیوں کہ یہ وہ رشتے ہیں جن میں سوتیلاپن نہیں ہوتا لیکن غلامی ایک ایسی لعنت ہے کہ وہ سماج کو کھوکھلاکردیتی ہے۔ طویل غلامی نے بھی بلوچ سماج کو اس کے اقدار سے بتدریج دور کردیا ہے ، ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سماج میں نفرت اور خودغرضی کی بیج بوئی گئی جو اب ایک درخت بن کر پھل دے رہا ہے۔ اس لیے ہزاروں گمشدگان کے لواحقین اپنے پیاروں کی بازیابی کی بات زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں ، ان کواس خوف نے مُردوں سے بھی بدتر کردیا ہے کہ اگروہ اپنے پیاروں کے لیے آواز اُٹھائیں گیں تو انہیں بھی سزادی جائے گی ۔ ایسے میں شبیر بلوچ کے خاندان کی خواتین کا احتجاج ، اس خوف کو شکست دینے کی ایک کوشش ہے ، اگر اس احتجاج میں دیگر گمشدگان کے لواحقین کو بھی شامل ہوں تو یہ آواز اور بھی زیادہ موثر ہوگی ۔لاپتہ افراد کے لواحقین کو یہ بات سمجھنے ہوگی کہ کسی بھی جرم کی سزا ماورائے عدالت گرفتاری ، گمشدگی اور قتل نہیں ۔ 

سیاسی اور سماجی تنظیموں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے پر منظم احتجاج کی منصوبہ بندی کریں اور نہ صرف لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے موثر آواز اُٹھائیں بلکہ ماورائے عدالت قتل اور گرفتاریوں میں ملوث عناصر کو سزا دینے اور گمشدگان کو معاوضہ دینے کا بھی مطالبہ کیا جائے تاکہ ایک مثال قائم ہو اور مستقبل میں کوئی قانون نافذکرنے والا ادارہ کسی کو بھی ماورائے عدالت گرفتار کرکے گم شدہ کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ یاد رکھیں کہ یہاں ایک آزمودہ طریقہ ہے کہ کسی بھی تحریک کو مصلحت آمیزی کے نام پر دبوچ لیا جاتا ہے ، سچ کو تسلیم کرتے ہوئے بھی ہزار حیلے بہانے ایسے تراشے جاتے ہیں جوریاست کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو اس بدمعاشی کا جواز فراہم کرتے ہیں ۔ 

نفسیاتی طور پر اس طرح کے پرتشدد ہتھکنڈے ان اداروں کو تباہی کے دہانے پر لاتے ہیں اور وہ اداروں کی بجائے کسی شیطان سرشت بدروح میں ڈھل جاتے ہیں جن کو اپنے برے کردار سے محبت ہوجاتی ہے ۔ ان کے اہلکار ببانگ دہل اپنی طاقت سے لوگوں کو ڈراتے ہیں ، راہ چلتے بھی وہ اپنے چہرے پر دنیا کی خباثت ڈالے گھومتے ہیں اور وہ اس ڈر کو اپنا ڈھال بنالیتے ہیں۔ جیسا کہ ایک نشہی خمار کا مزا لیتا ہے یہ بیچارے بھی اس احساس سے پِنکی لیتے ہیں کہ لوگ ان سے ڈرتے ہیں۔ آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کو بھی پتا ہے کہ بلوچستان ، پختونخواہ اور سندھ میں ان کا کردار انسانیت سوز ہے ۔ کسی بھی ریاستی بندوبست میں جب مقتدراعلی ’’گبرسنگ‘‘ کی طرح کی حرکتیں کرنے لگے وہاں ادارے خونخواہ بن جاتے ہیں اور جن کے منہ کو خون لگے پھر وہ اپنے اور پرائے میں فرق نہیں رکھتے ۔ جس طرح بالتریب مختلف ادوار میں عربوں ، ترکوں اور افغانوں نے اسلام کو اپنے توسیع پسندانہ عزاہم کے لیے استعمال کیا ،مقامی تہذیب و تمدن کو بالادست قوم نے ملیامیٹ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ان کے قوت متحرکہ یا ریاستی آلہ کاروں کو ایک نظریہ دیا جاتا تھا اور وہ اپنے ہر دہشت گردانہ حملے کا آغاز ’’بانگ محمدی ‘‘ سے کرتے تھے ۔ یورپ سے پرتگیز اور انگریزوں نے افریقا اور ایشیا ء کو تاراج کرنے کے لیے سلطنت عثمانیہ کی بخوبی نقل کی اور ان کے بحری قزاق صلیب گلے میں لٹکائے ، سمندر اور ساحل پر غارت گری کرتے تھے ۔ ان کی ذہنی تربیت اس طرح کی جاتی تھی کہ وہ آزادانہ کارروائیاں کرنے کے باوجود اپنے مرکزاور دین کے خود کو پابند سمجھتے تھے ، آج بھی پرتگیز اور ترک ان بحری قزاقوں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں ۔
پاکستانی فوج کا پوشیدہ ہدف بھی" پنجابی اقتدار" کی توسیع پسندی ہے ، جسے پاکستان اور اسلام کا لبادہ اُوڑھا گیا۔ 

لیکن عسکری طاقت کا غرور کسی بھی قوم کو ترقی کرنے نہیں دیتاعین ایسا کہ پاکستانی فوج کی زبرست منصوبہ بندیاں اور فلک شگاف بانگ حیدری اور بانگ محمدی(اللہ اکبر) بھی ان کے افسران کو کرپشن سے نہیں روک پائے۔فوج نے ملکی معشیت کو جونک بن کر چوس لیا ہے اور فوجی افسران نے دیمک کی طرح چاٹ کر فوجی اداروں کو کھوکھلا کردیاہے ۔ فوج کو جنگی منافع خور چلاتے ہیں جن کو حالت جنگ ، راس آتا ہے مگرعسکری طاقت کے غرور کی شکار قوم اپنے ہی فوجی طاقت کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں ۔ بڑی فوج کو پالنا آسان کام نہیں۔ لوٹ مار سے بھی جب غنیمت نہ ملے تو فوج اپنے ہی لوگوں کا گوشت کھانے پر تُل جاتی ہے ۔ پاکستان کی فوجی بدمعاشیوں نے اسے اسی صورتحال سے دوچار کیاہے ۔

لاپتہ لوگوں کا مسئلہ اب پاکستانی بندوبست میں کسی ایک قوم کا مسئلہ نہیں  رہا بلکہ یہ ایک سنگین انسانی مسئلے کی صورت اختیار کرگیا ہے ۔ سیما اور زرینہ کے آنسو لاپتہ خاندانوں کی ناامیدی کی کھیت پر امید کی بوند بن کر برسے ہیں۔ بلوچستان میں کوئی بھی خاندان ایسا نہیں جس کا کم از کم ایک شخض لاپتہ نہ ہو یا اس کی مسخ لاش نہ ملی ہویا پھر وہ جبری جلاوطنی کا شکار نہ ہواور اگر یہ سب سیما کے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں تو یہ آنسو پاکستان کو حقیقی معنوں میں بہا لے جائیں گے۔ مگریاد رکھنے کی بات پھر بھی وہی ہے کہ بغیرتی کی حدتک مصلحت پسندانہ سیاست بھی ہمارے ارد گرد منڈلارہی ہے جو براہ راست مقتدرہ کی باندی ہے اور بہرحال اسی کا بھلا چاہتی ہے۔ یہ ہم کو ڈرائے گی ، غلط مطالبوں کی خوشنما تعبیریں کرکے لاپتہ اسیران کی تحریک کے جواز کو ماند کردے گی ، ہماری چھوٹی کامیابیوں کو ایسے بڑھا چڑھا کر پیش کرئے گی کہ ہم اپنے ہی بے مقصد حرکتیں دہرا دہرا کر تھک جائیں گے اور وہ منزل جس کی ان آنسوؤں سے دھلنے کی امید بندھی ہے پھر سے دھندلاجائے گی ۔ 

ہمیں اپنی مثبت طاقت کو بڑھانے کے لیے پشتون رہنماء ملابھرام کے آنسوؤں کے پس پردہ ’’مشترکہ درد‘‘ کی کتاب پڑھنی ہوگی ۔ ہمیں آمنہ مسعود جنجوجہ کے درد کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ ان کا شوہر مذہبی خیالات رکھتے تھے تو کسی بھی ملک کی فوج کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے خفیہ طور ہر بیچ دے ، خرید لے یا ماورائے عدالت قتل کردے ۔ ہم جو حق اپنے لیے مانگ رہے ہیں وہ انسان کا استحقاق ہے ۔ یہ منزل انسانیت کی ہے محض بلوچیت کی نہیں اوربلوچیت کا معراج بھی انسانیت ہے۔ بلوچ قومی آزادی تو ایک پڑاؤ ہے جہاں سے ہمیں اپنی اصل منزل انسانیت کی طرف سفرکرنا ہے ، جس کا خواب شبیر نے جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے جو باباخیربخش اور واجہ غلام محمد کا نظریہ ہے ۔

سطحی طور پر دیکھنے والی نگاہیں ، گہراتی تک نہیں دیکھ پاتیں تو وہ جبر کے خلاف مظلوم قوم کی جدوجہد کو بھی شاونزم سے آلودہ کردیتے ہیں جو ننگ انسانیت ہے ۔ باباخیربخش مری سے جب کسی نے پوچھا کہ آپ مری ہونے پر سب سے زیادہ فخرکرتے ہیں یا بلوچ ہونے پر ؟ 

ہمارے طرح کا کوئی سطحی شخص ہوتاتو کھٹاک سے جواب دیتا ، میں مری نہیں ، سب سے پہلے بلوچ ہوں ۔ لیکن آپ ایک زیرک انسان اور عمر کے ایسے حصے میں تھے کہ آپ بذات خود مجسمہ علم بن چکے تھے ،فرما یا:’’ میں  مری ہوں ، بلوچ ہوں اور اس سے آگے انسان بننا بھی چاہتا ہوں ۔ ‘‘

کتنی گہری بات ہے ،اگر مقصد کو پالیا جائے تو ایک نظریہ ہے ، بلوچ تحریک کی منزل کی اس سے بہتر نشاندہی نہیں ہوسکتی ۔ اس لیے میں اپنے دوستوں کو باربار میں یہ یادہانی کراتا ہوں کہ’’ نیشنل ازم کا معراج انسانیت ہے ۔‘‘اور ’’ نیشنل ازم کا زوال شاؤنزم ہے ۔‘‘

ملا بہرام کے آنسوؤں کی چمک میں مجھے اسی منزل کی شبیہ نظرآتی ہے۔ احساس ہوتا ہے کہ ہم لاپتہ بلوچ اسیران کی بازیابی تحریک کیمپ سے اپنی منزل کی طرف کمند لگاکر پہنچ سکتے ہیں اور جب وہ منزل مل جائے توپھر قومی آزادی کو شرمندہ تعبیر ہونے میں کوئی قوت نہیں روک سکتی ۔ جس معاشرے میں انسان آزاد ہوں وہاں اقوام غلام نہیں رہ سکتے۔ زمین کی آزادی سے اگر آزادی ملتی تو آج عرب دنیا روبہ زوال نہیں ہوتی ۔ان کے پاس پیسہ بھی ہے ، زمین بھی آزاد ہے مگر انسانیت آزاد نہیں توان کی دنیا بھی ہچکولے لے  رہی ہے ، اب فنا ہوئی کہ تب فنا ہوئی کی کیفیت میں ہے ۔ 

ملابہرا م کے آنسوؤں کی لکھی کتاب بنام ’’مشترکہ درد ‘‘ کے ایک صفحے پر میں نے لکھا ہوا پڑھا ہے کہ’’ لاپتہ افراد کا مسئلہ صرف ایک قوم کا مسئلہ نہیں’’ انسانیت کا مسئلہ‘‘ ہے ۔ ہمیں بلاتفریق رنگ ، نسل ، مذہب ، فرقہ ، سیاست ، عقیدہ اور زبان ایک مشترکہ فلیٹ فارم پر اکھٹے ہوکر پاکستانی بدمعاش ریاستی فوج کے ہاتھو ں ماورائے عدالت گرفتار افراد کی بازیابی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہئے ۔ ‘‘

 یہ بات تاکیداً لکھی جاتی ہے کہ’’ محض ایک دولاپتہ افراد کی بازیابی اس تحریک کی منزل نہ ہوبلکہ ان بدمعاشوں سے مکمل حساب مانگاجائے ۔ مقتولوں کا خون بہا بھی لیں، ذمہ دارو ں کو فردافردا واضح سزا ملنی چاہیے ، یہی حقیقی انصاف اور اس تحریک کی فتح ہوگی ۔لاپتہ اسداللہ مینگل اور احمدشاہ کرد سے شروع کرنا ضروری ہے یا اس سے پہلے مری علاقوں میں بلوچ خواتین سمیت سینکڑوں لوگ اغوا کیے گئے تھے ، آج تک لاپتہ ہیں ۔ خواتین کو خلیجی ممالک میں بطور کنیز فروخت کردیا گیا ، یا جو ستم ، سندھ اور پشتونخوا میں ڈھائے گئے ، ان کو درگزر کرکے ہی آج ہم اس حال میں پہنچے ہیں ۔‘‘

ٓآج وہ گھڑی ہم پر گزر رہی ہے کہ ہمیں کراچی اور حیدرآباد میں مہاجروں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر بھی سوچنا چاہئے ۔ جب روزانہ مہاجر نوجوانوں کی بوری بند لاشیں ملتی تھیں ، ریاستی سرپرستی میں شیطان صفت غنڈے گھروں سے صرف لوٹ مار ہی نہیں کرتے تھے بلکہ عوتوں کا ریب بھی کرتے تھے ۔میرے کانوں نے یہاں تک سنا ہے کہ ظالموں نے ریاستی شہہ پرکئی مہاجرخواتین کے پستان بھی کاٹے تھے ۔ جب تک ہم ظالم اور مظلوم ، حق اورباطل، قومی مفاد اور گروہی مفاد ، نیشنل ازم اور شاؤنزم کے درمیان لکیر کھینچ کراپنے مقام کا تعین نہیں کریں گے ۔ آنسوؤں کی لکھی یہ’’ کتاب ‘‘بے معنی ہے ۔اور ہم اس کتاب کونہ سمجھیں تو شاؤنزم نیشنل ازم کو ہڑپ کرئے گا ، گروہی مفاد قومی مفاد پر حاوی ہوں گے ، باطل حق کو دھول چٹائے گا اور مظلوم کی گردن ظالم کے پاؤں کے نیچے دبی رہے گی ۔ 

تاریخ کے اوراق پلٹے ہیں ۔ یہ 1980ہے ۔ سرپر سفید لٹ دار بلوچی پگڑی ، چہرے پر پیچدار داڑھی ،آنکھوں پر دودھیا چشمہ اور ہاتھ میں تمباکو پائپ لیے یہ بزرگ شخصیت شیرمحمدمری ہیں۔لیجنڈری بلوچ گوریلاکمانڈرجنہیں جنرل شیروف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ محض گوریلا کمانڈر کہنے سے آپ کا تعارف مکمل نہیں ہوتا، آپ بلوچی زبان کے پہلے افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں ۔آپ کسی نامعلوم مقام پر ، رات کے وقت مصنوعی روشنی میں بیٹھ کر برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویودے رہے ہیں۔

شیروف :’’ بلوچ آج بھی کہتا ہے کہ میرے حقوق دو ،قومی حقوق ۔اگرنہیں پھر تو تاریخ اپنی راہ بنائے گی
 شہید واجہ کی شہادت سے پہلے بی این ایم سے میڈیا اور محققین کی میل ملاقوتوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ایک دو میٹنگوں کے بعد ہمیں ان کے مقاصد کے بارے میں شک گزرا ۔ بعید نہیں ہم تک رسائی کے لیے غیر ملکیوں کا بھی استعمال کیا گیا ہو یا ہماری نسبت اُن کی نگرانی کرنا دشمن کے لیے آسان رہا ہوگا ۔ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہمیں میڈیا کی ضرورت تھی ، ہماری ضرورت کو انہوں نے ہم تک پہنچنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کیا ہوگا ۔
قدرتی آفات کے بعد اسے روکنے کی کوشش کی بجائے انسان ایسے اقدامات کرتا ہے جس سے آفات سے ہونے والے نقصانات کو کم سے کم حد میں رکھا جاسکے ۔امدادی سرگرمیاں جو عموماً زلزلے سے محفوظ علاقوں کے لوگوں کی انسانی ذمہ داری بنتی ہیں بھی اسی کوشش کا حصہ ہیں ۔ ذمہ دار ریاستوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی فوج ہی طرح کے تربیت یافتہ ادارے موجود ہیں جب کہ بیشتر ممالک میں فوج اُن کے متبادل کے طور پر کام کرتی ہے ۔ فوج کی ذمہ داری جائے وقوع پر انسانی زندگیوں کو بچانا اور زخمیوں کو محفوظ مقامات تک
پاکستان میں قدرتی آفات جہاں لوگوں کے لیے مصیبت اور تباہی کا باعث بنتی ہیں وہیں کچھ عناصر ان قدرتی آفات کو اپنے سیاسی اور مذموم مقاصد کے  لیے استعمال کرتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں کشمیر کا زلزلہ سب سے زیادہ تباہ کن تھا جس کے نتیجے میں کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے ۔لاکھوں لوگ بے گھر اور بے سہارہ ہوگئے ۔ جہاں پوری دنیا اس سانحے سے نمٹنے کے لیے امدادی ٹیمیں بھیج رہی تھیں وہاں پاکستانی فوج اور مذہبی جماعتوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لیے پوائنٹ اسکورنگ شروع کی ۔ اس کھیل میں بھی جیت طاقتور


 فیس بک پر جاری کردہ ویڈیو کا لنک

گرم بحث چل رہی ہے ، بی ایل ایف کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو کی جس میں کسی ڈاکومنٹری فلم کی طرح مغربی بلوچستان کے ساحلی سرحد سے متصل زا ران دشت میں واقع پاکستان کوسٹ گارڈ کے ایک کیمپ پر کیے گئے حملے کی مکمل کارروائی فلمبند کی گئی ہے ۔

قریب قریب اکاون منٹ کے اس ویڈیو میں حملے کو لمحہ بہ لمحہ دکھایا گیا ہے ۔گوریلا کارروائیوں کی ویڈیو شائع کرنا
جگت ماموں امریکہ کے توجہ دلاﺅ نوٹس پر کرہ ارض پر خود کو پاکستانی کہلانے والے بہ زعم خود خاصان خدا کو یکایک یہ احساس جاگزین ہوا کہ اس نقشے میں جو گلوب پر پاکستان دکھایا جارہاہے بلوچستان نامی زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی شامل ہے ۔ان کے لیے بریکنگ نیوز یہ تھی کہ اس زمین پر کوئی بلوچ نامی جاندار بھی پایاجاتا ہے۔انہیں شاید پہلی دفعہ یہ اطلاع ملی کہ کل( ایک قسم کی گھاس ) کی بنی جھونپڑیوں میں رہنے والے یہ جاندار اچانک ناراض ہوکر پہاڑوں پر چلے گئے ہیں ۔جو اکا دکا رہ گئے ہیں انہیں وطن کے نظریاتی محافظ جب من کرئے اُٹھا لے جاتے ہیں۔

اشتعال انگیزکا لفظ اس تناظر میں درست ہے کہ پاکستانی فوج بلوچوں کے خلاف بر سر پیکار ہوتی ہوئی بھی بڑی دیدہ دلیر ی سے بلوچستان کے معدنی وسائل کو استعمال میں لانے کے علاوہ سر مایہ کاری کے نام پر بلوچستان کے زرعی وسائل بھی ہتھیانے کی سازش کا انکشاف کرچکی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اُردو کے ویب سائٹ پر جاری شدہ رپورٹ کے مطابق کور کمانڈر کوئٹہ کے ترجمان کرنل خالد نے یہ انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی فوج بلوچستان کے علاقے مکران میں پیدا ہونے والی ’’ مزاتی ‘‘ نامی کھجور

میری زندگی کےیادگار دنوں میں سے ایک د ن جب مجھے بابامری کی دیدار کا شرف حاصل ہو ا ‘ میں اسے ملاقات اس لیے نہیں کہہ سکتا کہ نہ آپ مجھ سے واقف تھے نہ ہمارا کسی خاص ایجنڈے پر ملاقات طے تھی ۔ڈیفنس کے خیابان سحر میں آپ کی رہائش گاہ میں ہونے والی اس ملاقات کو ہم شہید واجہ (غلام محمد)کی شہادت کے بعد بی این ایم کے قائدین سے آپ کے ساتھ ایک تعارفی نشست کے طور پر رکھنا چاہتے تھے مگر اس حوالے سے یہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئی۔ہمارے وہاں پہنچنے کے چند لمحوں بعد آپ سے ملا قات کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھ گیا جن میں زیادہ تر کاھان اور کوھلو کے علاقے سے ہجرت کرکے آنے والے مری بلوچ تھے‘ایک شخص آپ کوایک شادی کی دعوت پہنچانے کے بہانے آٹپکا یوں ہماری نشست محض آپ کی دیدار تک ہی محدودرہی مگر ایک صاحب علم شخصیت سے ملاقات کا ایک لمحہ بھی کئی ہزار صفحات کے مطالعے سے زیا دہ سود مند ہے۔

ایک ایسی شخصیت جسے آپ اپنے دل میں قدر منزلت کے اعلیٰ ترین مقام پر بٹھا چکے ہوں جس کاآپ کا حلقہ احباب دنیا کی برگزیدہ ہستی کی طور پر ذکر کرتا ہواس سے ملا قات سے پہلے ذہن میں عجیب سے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ایک عظیم ہستی کیسی ہوسکتی ہے ؟ ذہن عموماًاسے مافوق البشر شبیہ میں پیش کرتا ہے لیکن بابامری اپنی عظمت کے باوجود ایک انسان ہیں جس طرح تمام عظیم انسان ہوتے ہیں ۔

”غدار“ میر ے ایک غیر مطبوعہ فسانے کا عنوان بھی ہے جو کہ میرے مرتب کردہ افسانوں کی زیر طبع کتاب ”سرتگیں برنج “میں شامل ہے ۔سر تگیں برنج کا تخلیقی معیار شایداتنابلند نہیں کہ ناقدین کی توجہ حاصل کر پائے لیکن اس میںکئی افسانے ہماری اپنی بپتا ہیں ،افسانوں کے واقعات وکردار سب غیر حقیقی لیکن احساسات سچے اور کھرے ہیں ۔”غدار “دراصل میرے اپنے بارے میں پیشن گوئی تھی جو میرے اغواءکی واردات کی ناکامی کے بعدمیری کہانی نہ بن سکی ‘لیکن میری پیشن گوئی غلط بھی نہیں، نہ ہی غیر حقیقی واقعات وکردار کی وجہ سے احساسات بدلے ہیں ۔کیوں کہ یہی شہید واجہ( شید غلا م محمد ) ، شہید لالہ منیر اور میرے عزیزترین دوست شہید لالہ حمید اور مغوی احمد داد سمیت ہم سب کی مشترک کہانی ہے ۔

دہشت اور وسوسوں کے ساتھ زندگی سے نبر د آزمائی کا کرب ایسا نہیں کہ الفاظ کا پیر ہن پہن کر صفحہ قرطاس پر نمودار ہویاایسی
ہنر مندی کم ازکم مجھ جیسے پابہ جولاں لکھاری کے لیے دکھانا مشکل ہے ۔یہاں بزدلی اور بہادری کے طعنے پیمانے نہیں بن سکتے کیوں کہ ایک لکھاری قلم کی جنگ لڑ سکتا ہے ‘ حرمت تحریر کی خاطر سر بھی کٹا سکتا ہے مگروہ ایسے دشمن کے سامنے یقیناً لرزہ براندام ہوگا جس کی اخلاقیات کا کوئی حدود وقیود نہیں اور نہ ہی دشمنی کا پیمانہ ومعیار ہے ۔ایک باغی جب ظلم کے خلاف سر پہ کفن باندھ کر نکل پڑتاہے تو وہ دہشت اور وسوسوں میں رہنے کی بجائے نوکیلی سینگوں والی ایک ایسے پر جاذب جانور کا روپ دھار لیتا ہے جس کے گوشت کے لیے جنگل کے درندے ہمیشہ اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور وہ ان خطرات سے آگاہ چست ، تیز و چالاک اس قدر ہوتا کہ اگر درندے مل کر حملہ کریں تو وہ اُنہیں اپنے پیچھے دوڑا دوڑا کر تھکا دیتا ہے اور اگر کوئی اکیلے اس کے پیچھے لگنے کی حماقت کر ئے تو اسے اپنی نوکیلی سینگوں میں پرو لیتا ہے ۔باغی‘ ریاستی قانون سے منکر ہونے کے باوجود بھی جنگ کے آفاقی اُصولوں کے احترام میں اپنی طرف سے جنگ کا نقارہ بجانا ضروری سمجھتا ہے بالکل بلوچ گوریلاجنگ کے اولین اُستادوں میں مشہور
مکران میں اب تک ہونے والی کارروائیوں کی جو خبریں قوم دوست جماعتوں کے ذرائع سے حاصل ہورہی ہیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں ۔ اس متعلق پہلی خبر 30مئی کی اخبارات میں شائع ہوئی جو بی این ایم کراچی دمگ کی طرف سے دیا گیا تھا ۔خبر کے مندرجات کے مطابق ”گوادر کے علاقے میں بلوچ سر مچاروں نے کامیاب کارروائی کر کے کئی ایف سی اہلکاروں کو قتل کیا تھااس کے جواب میں ایف سی اہلکاروں نے گرد نواح کے علاقوںمیں جارحانہ کارروائیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔اسی طرح کی ایک جارحانہ کاررائی میں انہوں نے دشت زاران کے علاقے میںواقع ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے تیل ڈپو اور کروڑوں روپے مالیت کے سامان کو بلا وجہ

یکم اپریل 2009کی ایک یادگار شام جوشاید ہمیشہ میری یاداشت میں تازہ رہے گی ۔اس شام غروب آفتاب کے وقت راقم ، نصیر کمالان اور شہید لالہ منیر گوادر کے پدی زر(مغربی ساحل ) میں چہل قدمی کرتے ہوئے کلک کی طرف جانے والے راستے کے ابتدائی کونے پر سمندر کے دلفریب نظارے سے لطف اندوزہونے کے لیے بیٹھ گئے ۔میں نے لالہ سے کہاکہ وہ ریت پر بیٹھیں لیکن لالہ نے اس سے اتفاق نہ کرتے ہوئے ہم سے ذرادور ایک صاف ستھرے پتھر کا چناﺅ کیا اور اسی پر بیٹھ گئے ۔لالہ کی نظریں سمندر پر جمی تھیں اور وہ سگریٹکا کش لگارہاتھا اُن کے چہرے پر سرور اور حسرت کے ملے جلے تاثرات کوپڑھنا میرے لیے انتہائی آسان تھا کیوں کہ میں اپنے سمندر کی خوبصورتی اور اس پر بیرونی یلغار کے احساسات کو بیک وقت محسوس کرتے ہوئے روزانہ اسی کر ب سے گزرتاہوں ۔بعد میں لالہ نے اپنے ان تاثرات کا اظہار جن الفاظ میں کیا وہ چند سیکنڈ اب بھی اُن کے پیئے ہوئے سگریٹ کے چند فلٹروں کی طرح ہمارے پاس محفوظ ہیں :”


من یک فطری سرورے زُرت منی چم ھمے زرے تمامیں دمگ ءَ کہ کپت من گو اَخ آہ .......................اے زرءِ مالک بہ بیت آئی ءَ را نان نیست آئی ءَ را
Powered by Blogger.