Showing posts with label اقوام عالم پر نظر. Show all posts
Showing posts with label اقوام عالم پر نظر. Show all posts

افریقہ میں کالونیل دور کے آغاز سے ہی مختلف طاقتوں میں اکھاڑ پچھاڑ اور رسہ کشی کا آغاز ہوا جس کاذکر تاریخ کی کتابوں میں افریقہ کے لیے کش مکش کے طور پر کیاجاتاہے اسی کشمکش نے صرف سوڈان جیسے ممالک میں لسانی اورمذہبی تقسیم کی بنیادیں مضبوط نہیں کیں بلکہ پورے افریقہ کے تقسیم در تقسیم کی را ہ ہموار کی۔ریاستوں میں سماجی نا انصافیاں عموماً اختلافات ، تضادات اور بلآ خرتقسیم کا سبب بنتے ہیں، افریقہ میں یہ عوامل بیرونی مداخلت کے نتیجے میں بتدریج

بلا ٓخر اسرائیل نے وہی کیا جو اس جیسی غیر فطری ریاستوں کا طرہ امتیاز رہاہے یعنی گزشتہ دن 31مئی 2010 کوغزہ کے محصورین کے لیے امداد ی سامان لے جانے والے آٹھ کشتیوں پر مشتمل بحری بیڑے فریڈم فلوٹیلا پر غزہ کی بندرگاہ سے 65کلومیٹر دور بین الاقوامی سمندری حدود میں حملہ کردیا ۔اسرائیل نے غزہ میں حماس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے علاقے کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ہر ہفتے پندرہ ہزار ٹن امداد غزہ میں لے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ وہاں کی ضرورت کا چوتھا ئی حصہ بھی نہیں۔اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی کے نتیجے میں مختلف میڈیا ذرائع کے مطابق بیس سے زائد امدادی کارکنان جاں بحق اور ساٹھ زخمی ہوگئے ہیں ۔اسرائیل نے امدادی بیڑے اور امدادی کارکنان کو تحویل میں لے رکھا ہے ۔اس امدادی بیڑے میں صرف اسلامی ممالک کے افراد نہیں بلکہ یونان ، ترکی ،اسپین ، سویڈن سمیت کئی دیگر یورپی ممالک کے امدادی کارکنان بھی شامل ہیں ۔اتنے ممالک کے افراد کی اس بیڑے میں جو کسی بھی جارحیت کی نیت سے غزہ کی طرف نہیں جارہاتھا بلکہ محض انسانی بنیادوں پر دوائیاں اور دیگر امدادی سامان لے کر غزہ کی طرف ایک پرامن انداز میں دنیا کو امن کاپیغام دیتے ہوئے بڑھ رہاتھا کہ اسرائیلی فوج نے امن کی اس فاختہ کے منہ سے شاخ زیتون چھین کر اسے خون میں نہلا دیا۔اس اسرائیلی جارحیت کے خلاف امریکہ کے شہر واشنگٹن میں بھی شدید احتجاج ریکارڈ کرایا گیا مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ غزہ میں اسرائیلی دہشت گردی کے شکار لاکھوں افراد تک امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا کو متاثرین

Powered by Blogger.