Showing posts with label اردو فیچر رپورٹ‌. Show all posts
Showing posts with label اردو فیچر رپورٹ‌. Show all posts
نوٹ : یہ فیچر رپورٹ جسے میں اپنی مختصر صحافتی زندگی کی سب سے بہترین رپورٹوں میں شمار کرتاہوں ۔غالباً2004میں خصوصی طور پر روزنامہ گراب ایکسرپریس کے لیے لکھا گیاتھا ۔اس رپورٹ میں شامل کئی لوگ آج ہیروئن کے موذی نشہ کی وجہ سے جان سے گزر چکے ہیں لیکن اس فیچر رپورٹ کی آج بھی وہی اہمیت ہے ۔ بلوچ سر مچاروں کی طرف سے ہیروئن فروشوں کے خلاف ٹارگٹ مہم کے تناظر میں اس رپورٹ کو اپنے بلاگ کے قارئین کی خدمت میں پیش کررہاہوں ۔ زندگی رہی تو بلوچ سر مچاروں کے مذکورہ مہم کے اثرات پر رپورٹ ترتیب دوں گا۔ راقم

جو زندہ تو ہیں لیکن مُردوں سے بد تر ہیں ۔جنہیں نہ کھانے کا ہوش ہے نہ اپنی صحت اور صفائی کا خیال ۔ہر شہر ہر محلے کی گلیاں ان سانس لیتے مُردہ لوگوں کا قبر ستان ہیں ۔جہاں وہ سارا دن کسی بے جان وجود کی طرح پڑے رہتے ہیں ۔جن میں نوجوان بھی ہیں او ر بوڑھے بھی ۔ان کے اس طرح جیتے جی مردار وجود میں تبدیل ہونے کے ذمہ دار یہ خود ہیں۔ جو اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگیوں کو تباہ

بحرہ بلوچ خطر ے میں
Baloch Sea in Peril
سمندر میں گرتازہر

جیونی ، پشکان،گوادر اور پسنی کے ساحل پر روزانہ لاکھوں لیٹر ڈیزل لایا جاتا ہے ۔ پہلے ڈیز ل درمیانی سائز کی چھوٹی کشتیوں میں لایاجاتاتھا اب اس کے لیے بڑی کشتیاں (لانچ )استعمال کی جارہی ہیں۔ جن میں بیک وقت 400ڈرم ڈیزل )اسی ہزار لیٹر) لانے کی گنجائش ہوتی ہے ۔اس گنجائش کوبڑھانے کے لیے ایک خاص قسم کے ائر بیگزکا استعمال کیاجارہاہے جو عموماً حادثاتی طور پر کم گہرے پانی میں پھنسے ہوئے جہازوں کو سطح پر اٹھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔یہ ائر بیگز جن میں ڈیزل بھر اجاتا ہے کافی زیادہ گنجائش کی ہوتی ہیں اور کشتی کی ٹینکیاں رکھنے کی مخصوص جگہ کے علاوہ کسی بے ہنگم جگہ بھی رکھی جاسکتی ہیں جتنا ان میں ڈیزل بھرا جاتا ہے یہ اتنا ہی پھیلتے جاتے ہیں اور پارے کی طرح اس جگہ کے کونے کونے تک اپنے لیے جگہ بنالیتی ہیں ۔یہ ڈیزل ایران کے زیر انتظام مغربی بلوچستان کے بندرگاہوں بندرعباس ، چابہار، کنارک ،بریس،پسابندن اوردیگر چھوٹی بندرگاہوں سے لوڈ کیے جاتے ہیں ۔جس کے عوض
Powered by Blogger.