Showing posts with label فکر ونظر. Show all posts
Showing posts with label فکر ونظر. Show all posts
میں بی ایس او کی سیاست سے روزاول سے ہی اختلاف رکھتا تھا ، مجھے بی ایس او کی تمام شکلیں طفیلی اور غیرطلبا ء قیادت میں جھنڈا بردار نظرآتی تھیں ۔ بی ایس او کے قائدین کا علم وادب سے زیادہ کُشتی سے نسبت لگتا تھا اس کی وجہ ان کا جسمانی قدوکاٹھ بھی تھا وہ عام طالب علموں سے جسامت میں اکثر بڑے ہوتے تھے ، کچھ طلبا ء رہنماء مجھے طالب علم سے زیادہ پیشہ ور چرسی نظر آتے تھے ۔ میں اپنے زمانے کی بات کررہا ہوں بلاشبہ بی ایس او کا ایک سنہرا بھی دور بھی رہا ہے۔ جس اسکول میں مجھے پہلی مرتبہ پڑھانے کی کوشش کی گئی ، وہ وژدل محلہ اسکول تھا ، اس زمانے میں اسکول کی ایک کمرے پرمشتمل شکستہ عمارت ، شاہی بازار کے عقب میں واقع تھی ۔میں نے سنا ہے کسی زمانے میں وہ بی ایس او کی پبلک لائبریری تھیجس میں تعلیم بالغان کی کلاسیں بھی لگتی تھیں اور شہر میں ایسی دیگر لائبریاں بھی تھیں ۔ لیکن سن شعورمیں ہم نے جو بی ایس او دیکھی وہ کتابوں سے دور ہوکر پوسٹروں کے قریب ہوچکی تھی ، پھر گانے بجانے ، ٹوپی ، ٹی شرٹوں اور سیاہ چادروں کا دور دھوم دھڑکے سے آیا ۔
 
میں سیاست کی بجائے صحافت پرتوجہ مرکوز رکھنا چاہتا تھا اور کم از کم بی ایس او میں شمولیت کا میں نے ہرگز نہیں سوچا تھا ۔ میرے قریبی دوست شہیداحمد داد اور شہیدلالاحمید بھی میرے ساتھ صحافت کررہے تھے ،لالاحمید پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہونے کے باوجو بی ایس او مینگل میں تھے، حالانکہ ان کی فیملی نیشنل پارٹی سے وابستہ تھی۔ انہی دنوں سنگل بی ایس او کا اعلان ہوا ، گوادرمیں اس وقت تک ہم دوست ایک وسیع غیر تنظیمی سرکل بناچکے تھے اورہم بظاہر مختلف سیاسی جماعتوں کے بھی قریب تھے ۔مجھے شہیداحمدداد نے بی ایس او میں شامل ہونے کے لیے کہا ، لیکن تکنیکی طور پر اس میں رکاوٹ یہ تھا کہ سنگل بی ایس او کے قیام کے لیے جو طلبا ساتھ بیٹھ رہے تھے وہ بی ایس او کے کسی نہ کسی دھڑے کے ممبر تھے۔ نیشنل پارٹی دھڑے کے رہنماؤ ں نے مجھ پر اعتراض اُٹھایا کہ میں کسی دھڑے کا ممبر نہیں ،اس کا توڑ نکال کر بی ایس او مینگل نے مجھے رکنیت دے کر اس پراسسز میں شامل کیا ۔ شہیداحمدداد نے مجھے راضی کیا کہ ہماری کوششوں سے بلوچ طلبا سیاستکے مزاج میں تبدیلی آئے گی اورجیسا کہ سنگل بی ایس او کا مقصد ہے بلوچ طلباکو ایک ایسا فلیٹ فارم مہیا کیا جائے جو سیاسی جماعتوں کے اثرات سے آزاد ہو ۔ سنگل بی ایس او کا رسمی اعلان بھی گوادر میں ایک جلسہ عام میں ہونا تھا ۔ میں نے ہچکچاہتے ہوئے بی ایس او میں شمولیت اختیار کی اُس مختصر دورانیہ کی بی ایس او میں جس کا کوئی دوسرا دھڑا نہیں تھا ۔لیکن پہلے اجلاس میں ہی سیاسی جماعتوں کے اثرات ہم پر واضح تھے۔اجلاس میں شریک ہونے والے مرکزی کمیٹی کے ممبران طے شدہ ایجنڈہ لے کر آتے۔گوادر میں بی ایس او متحدہ نہیں تھی ، نہ ہی اس وقت ہمارے ذہن میں بی ایس او متحدہ کی سوچ تھی لیکنہم تمام قریبی دوست بی ایس او کی مکمل خودمختار حیثیت کے حامی تھے ۔مگرہمارے ساتھ سیاسی جماعتوں کے دھڑوں سے وابستہ عناصر نے ایسا کھیل کھیلا کہ کونسل سیشن سے پہلے ہمارے تمام متحرک دوست معطل کردیئے گئے ، مجھے روزنامہ توار میں چھپنے والے بی ایس او سے متعلق ایک خبر کو بنیاد پر معطل کیا گیا ، کیوں کہ میں گوادر میں روزنامہ توار کا بیوروچیف تھا البتہ وہ خبر میرے علم میں لائے بغیر اسماعیل بلوچ نے چلائی تھی جو عملی طور پرمیرے چیف تھے ۔اس معطلی پر ہمارے دوستوں نے سوال اُٹھایاجواباً ’’ باجماعت‘‘ معطل کردیے گئے۔ سیشن میں بی ایس او پھر سے ٹکڑوں میں بٹ گئی ، نیشنل پارٹی اور بی این پی نے اپنا حصہ بٹورا ، بی ایل اے اور بی ایل ایف نے اپنے نظریاتی نعرہ بازوں کو الگ کرکے بی ایس او آزاد کا نام دے دیا ۔ سچائی تو یہ ہے کہ بی ایس او آزاد بھی اتنی ہی آزاد تھی جتنی بی ایس او پجار اور بی ایس او مینگل، فرق ہے تو بس اتنا کہ بی ایس او آزاد بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے ایک واضح نکتہ نظر رکھتی تھی اور باقی دونوں ظاہرو باطن طفیلی تھے ۔ 
 
میں نے بی ایس او آزاد اور اس کی سرگرمیوں کی بنیاد پر ہو تین ہونہار نسلوں کو مِٹتے دیکھا ۔ہم دوستوں نے زمانہ طالب علمی میں ہی بی این ایم میں شمولیت اختیار کی ، ہم محض اس نکتے پر قائل ہوئے کہ سوچ اور الفاظ کو عملی جامہپہنانے کے لیے میدان عمل کا حصہ ہونا چاہئے۔ میں نے بی ایس او کے دوستوں سے ہمیشہ کہا کہ وہ عوامی سیاست سے اجتناب کریں یہ ان کا مینڈیٹ نہیں ہے ۔ لیکن شہیدقیوم کامریڈ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ بلوچستان میں ماس پارٹی نہ ہونے کا خلا ، بی ایس او پُر کررہی ہے ۔ مجھے عجیب لگتا کہ اسی بی ایس او سے نکل کر بی این ایم میں شامل ہونے والے کس خلا کو پُر کررہے ہیں ؟ ، میں کبھی اس سوچ کے منبع تک نہیں پہنچ پایالیکن مجھے اس بے اطمینانی کے پیچھے بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان وہی اختلافات نظر آتے ہیں جو آج کھل کر سامنے آچکے ہیں ۔ ان ہی اختلافات کی بنیاد پر انہوں نے بلوچ قوم کے مستقبل کو آگ میں جھونک دیا ۔ 
 
دوہزاردس میں میں نے بلوچ آزادی پسندوں کو ایک خط لکھا تھا، اس میں میں نے دیگر کئی تجاویز کے ساتھ یہ تجویزبھی پیش کی تھی کہ بی ایس او کو عوامی سیاست سے دور رکھا جائے ۔ ہماری کسی نے کب سنی؟ بی ایس او آزادسالوں اسی کیفیت میں رہی کہ وہ ’’ ماس پارٹی‘‘ کا خلا پُرکرئے گی ۔ بی ایس او ، دو آزادی پسند جماعت بی آر پی اور بی این ایم کے درمیان مجوزہ اتحاد میں بھی رکاوٹ بنی رہی ۔ بی آر پی کا موقف تھا کہ بی آرایس او کو بھی اسی طرح ایک برابرفریق کے طور پر بی این ایف کے اتحاد میں شامل کیا جائے جس طرح بی ایس او آزاد کو شامل کیا گیا ہے جب کہ بی ایس او ، بی آرپی کو آزاد تنظیم تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھی ، اصولی طور پر بی این ایف کے اتحاد میں طلبا ء تنظیموں کی شمولیت ہی بے جوڑ تھی ۔ اور بی ایس او آزاد کی مکمل آزاد تنظیمی حیثیت کا دعوی بھی مشوک تھا ۔ 
 
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں بطور صحافی اور علم دوست ہمیشہ میری توجہ کا مرکز رہے ہیں ، جب میں نے ان کے مرکزی کونسل سیشنکے انعقاد کا سنا تو خوشی اور بے چینی کے ملے جلے احساسات نے گھیر لیا ۔ میں اسی دن سے ان گزارشات کو لکھنے کا سوچ رہا ہوں لیکن گردش دوران میں گرفتار کوئی بھی کام وقت پر نہیں ہوپا رہا ۔ خوشی بی ایس اے سی کی کامیابی کی تھی اور تشویش اس بات کی کہ ہماری اکثر تنظیمیں کامیاب کونسل سیشن کے انعقاد کے بعد ہی بکھر گئی تھیں ، بی ایس اونے تو ہرسیشن کے بعد تقسیم کاایک رکارڈ بنا رکھی تھی ۔ اس لیے میں سانپ کا ڈسا رسی سے بھی خوفزدہ تھا ۔
 
بی ایس اے سی کو حتی الوسع ان غلطیوں سے اجتناب کرنا چاہئے جو بی ایس او نے کیے ہیں ۔ ایک طالبعلم کی واحد ذمہ داری حصول تعلیم ہے ، اس کی سرگرمیوں کا محور متعلقہ شعبے میں مہارت حاصل کرنا ہے ۔ عام لوگ دوسرے کی غلطیوں کیبجائے اپنی غلطیوں سے عبرت پکڑتے ہیں لیکن بعض غلطیوں کی اصلاح نہیں ہوتی اور ایک طالبعلم کے لیے اُس کا وقت ہی اس کا سرمایہ ہے ، جو ہاتھ سے نکل گئی تو پھر اسے واپس حاصل کر نے کا امکان نہیں ۔ طالب علموں کا خاصہ یہ ہے کہ وہ دوسری کی غلطیوں اور کامیابیوں کا تجزیہ کرکے اپنے منزل کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور طلباء تنظیم ایک علم پرور ادارہ ہوتا ہے ۔ ماضی میں بلوچ طالب علموں کا نظریاتی استحصال محض غلطتعلیم وتربیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ خوشنما نعروں کی بنیاد پر بھی کیا گیا۔جس طرح ایک نعرہ مذہب کی بنیاد پر لگا کر ذہنوں پرایک مخصوص ٹوپی چڑھایا جاتاہے اسی طرح قوم دوستی کا نعرہ اگر طالب علم کے تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہو تو وہ اس قوم کے معماروں کا بیڑا غرق ہوتا ہے ،جس طرح ہمارا ہوا ۔ 
 
پھر ایک وقت ایسا آتا ہے یہی قوم دوست جو کل تعلیمی اداروں میں نعروں کی ہوائی فائرنگ کررہے ہوتے تھے ، دانشورانہ ، سائنسی اور علمی رہنما ئی کاتقاضا کرتے ہیں ۔ بی ایس او آزاد جیسی تنظیم کہاں سے پی ایچ ڈی پیدا کرتی جس کا چیئرمین یونیورسٹی کی بجائے کسی اور درسگاہ میں تعلیم حاصل کررہا تھا ؟ پھر جے جے کار بھی دانشور کا ، رونا بھی دانشورانہ اپروچ کے نہ ہونے کا ۔ طلب بھی ہرکام میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا تو یہ منافقت نہیں ؟ 
 
بی ایس او کو کبھی یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اگر وہ ہرسال ہزاروں کے حساب سے زندگی کے مختلف شعبوں میں تعلیم یافتہ قوم دوست افراد فراہم کرتی تو آج بلوچ قوم کی سماجی حالت بہتر ہوتی ۔ بی ایس او کی ماس پارٹی بننے کی سوچ نے اسے گمراہ کردیا ، تعلیمی اداروں میں بلوچ طلباء کے درمیان ایک خلیج پیدا ہوا ، لکیر کے ایک طرف بی ایس او کا بیانیہ تھا ، جس کا اظہار’’ حمایت سرمچاران ریلی‘‘ کی شکل میں کیا گیا اور دوسری طرف وہ طالب علم تھے جو اپنا طالب علمانہ فریضہ پورا کرنا چاہتے تھے ، وہ ناچار لکیر کے اس طرف تھے جہاں ان کی منزل بلوچ قومی بقا ء کے برخلاف طے ہونا تھا ۔ 
 
میری یہی استدعا ہے کہ بلوچ طلبا ء کی اس تنظیم کو کسی بھی قسم کی سیاسی نعرہ بازی سے گریز کرنا چاہئے ، اس تنظیم کی ذمہ داری ہے کہ بلوچ طلبا ء میں بردباری اور صبر پیدا کریں جو ان کی علمی ترقی میں کردار اداکریں ، جذباتیت اور رومانویت سے بلوچ طلبا ء کو محفوظ رکھنے کے لیے علماء کی خدمات حاصل کرکے اس سلسلے میں تربیتی پروگرامات کریں ۔ بلوچستان کے حالات دگرگون ہیں ، لاتعداد مسائل موجو د ہیں لیکن انہیں اپنے والدین کا محتاج ایک طالب علم حل نہیں کرسکتا بلکہ زندگی کے سردوگرم سے آشنا تعلیم یافتہ شخص ہی ان کے حل کے لیے ایک بہتر کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے اور اس صلاحیت کو حاصل کرنے کے لیے جتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے پہلے اسے صبر وتحمل سے حاصل کیا جائے ۔ جس وقت کوئی طالب علم کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ لیتا ہے ، اس سے پہلے اس تعلیمی ادارے اسی کی سیٹ پر بیٹھا ہوا ایک شخص فارغ والتحصیل ہوکر عملی زندگی میں قدم رکھ چکا ہوتا ہے ، کچھ کام اپنے اس پیشرو کے کرنے کے لیے چھوڑ دینا چاہئے ۔ میں یہاں محض پارلیمانی سیاست سے اجتناب کی بات نہیں کررہا بلکہ نظریاتی اور مذہبی سیاست کو بھی طلبا ء تنظیموں پر حاوی نہیں ہونا چاہئے البتہ ثقافتی میدان میں بی ایس اے سی کی ایک علم پرور ذمہ داری ضرور بنتی ہے ۔ جس کا اظہار انہوں نے اپنے سیشن میں بھی کیا ہے کہ انہوں نے شاید تاریخ میں پہلی مرتبہ دو زندہ بلوچ ادیبوں کے نام پر سیشن کا انعقاد کیا بلاشبہ واجہ عبدالرحمن براھوی اور واجہ مبار ک قاضی اس کے مستحق ہیں ۔ آج بلوچوں کی دونوں زبان علمی طور پر انحطاط کا شکار ہیں ۔ اسی پروگرام میں جناب ڈاکٹرمنظوربلوچ نے اپنے ابتدائی کلمات تو براھوی زبا ن میں اداکیے لیکن انہوں نے بوجوہ بلوچی یا براھوی میں تقریر کرنے کی بجائے اردو میں تقریر کی ، جو ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ اس پر سوچتے ہوئے بلوچ طالب علموں کو اپنی زبانوں کی بقا کے لیے خصوصی پروگرامات کرنے ہوں گے اور بلوچی کوباہمی رابطے کی مستحکم زبان بنانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
اس سوال کاگمراہ کن جواب یہ ہے کہ ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جعلی پولیس مقابلے میں کراچی میں دکانداری کرنے والے جنوبی وزیرستان کے ر ہائشی نقیب اللہ محسود کوماورائے عدالت قتل کیا۔ واقعے کے دیگر تفصیلات اخبارات اور نیوز
سائٹس میں موجود ہیں ۔ اس وقت نقیب اللہ محسود قتل کیس کی خبر اور اس کا فالو اپ پاکستان کی خبری دنیا میں عروج پر ہے اور تمام تر ملبہ راؤانوار پر ڈالا جارہا ہے ۔ اس سارے عمل میں میڈیا اور سیاسی جماعتوں کی پھرتیاں دیکھ کر مجھے حیرت ضرور ہے کہ آخرراؤانوار نے ایسا کیا کہ اس کے کچھ پیٹی بھائی اور بااثرافراد اس کے خلاف گھیراتنگ کررہے ہیں ؟ مجھے یہ خوش فہمی ہرگز نہیں کہ اس کی وجہ عوامی دباؤ ہے کیوں کہ عوام کی آگاہی کا ذریعہ میڈیا ہے جس پر ایجنسیوں کا مکمل کنٹرول ہے البتہ اقتدار کے غلام گردشوں میں کھینچاتانی ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان کی
بلوچی میں پڑھیں

گمان کیا جارہا ہے کہ آنے والے زمانے میں ، گوشت پوست کے ایسے انسان بنائے جائیں گے جو بظاہر عام انسانوں جیسے ہوں گے لیکن احساسات اور معاشرتی لحاظ سے اُن کی حیثیت مشین جیسی ہوگی اور وہ اپنے آقاوں کے حکم پر غلام کی طرح خدمات بجا لائیں گے ۔

یہ خیال محض خیال ہی رہے گا یا آنے والے دور میں اس کو حقیقت کا جامہ پہنایا جائے گا ، وثوق سے کہنا مشکل ہے ۔ کیوں کہ اس کے انسانی معاشرے میں کئی منفی اثرات پڑنے کے امکانات ہیں ۔
میں نے ماضی میں کچھ بری سیاسی پیشن گوئیاں کی تھیں جو بدقسمتی سے حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں ، آج میں چند اچھی پیشن گوئی کررہا ہوں ۔

جو لوگ ھیربیار اور چارٹر حمایت کے آڑ میں براھمدگ اور بی آرپی سے شروع کرکے بتدریج تمام آزادی پسندوں کے خلاف ہوگئے ہیں جلد ہی نہ گھرکا رہیں گے نہ گھاٹ کا ۔

میں نے ان بکس چیٹ میں پہلے ہی خوش گمانی ظاہر کی تھی کہ بہت جلد تمام آزادی پسند قوتوں کے درمیان ایک وسیع تر اتحاد قائم ہوگا .
گزشتہ مضامین پر ردعمل اور پذیرائی توقع سے کچھ بڑھ کر ہے ، دوستوں کا جواب دینے پر کافی اصرار ہے مگر رہنے دیں کبھی سچ جھوٹ سے زیادہ سچ نقصان دہ ہوتے ہیں، انسانی کی جان اور عزت کی خاطراگر کبھی سچ بولنے کے’’ جنون ‘‘ کو پابہ جولا ں کرنا پڑے کوئی حرج نہیں، چاہئے جھوٹ کو ’’ آرا ء‘‘ کہہ کر لوگوں کے ذہنوں پر تضادات کے کوڑے برسائے جارہے ہوں وقتی خاموشی بہترین حکمت ہے ۔ کسی کواشتعال دلانے کا نفسیاتی حربہ یہ نہیں کہ اس کی حقیقت بیان کی جائے بلکہ اس کی ایسی خامی خوبیاں بیان کی جائیں جو اس میں موجود نہ ہوں۔ ’’خوبیاں بھی‘‘ یقین نہیں ! تو کسے گنجے کو کہہ کر دیکھ لیں :’’ آپ کے بالوں کی تراش وترتیب جاذب نظر ہے۔‘‘
بلوچ سیاست کاروں کا موجودہ رویہ حیران کن نہیں ، ایک بے ترتیب ہجوم بغیر مرکز کے اس سے بہتر رویے کا مالک نہیں ہوسکتا۔ ہمارے قوم دوست سیاست کاروں کا دعوی ہے کہ وہ پاکستانی تسلط کے خلاف بلوچ قومی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں مگران کے سوچنے کا انداز وہی ہے جو کسی پاکستانی فوج کے جنرل کا ہوسکتا ہے ۔ ان کو ہر وہ شخص سازشی اور غدار نظر آتا ہے جو ان کی پالیسیوں اور طریقہ کار پر عدم اطمینان کا اظہار کرئے۔ ایک ایسا ماحول بنایا گیا ہے کہ شھید کندیل بلوچ ( صبا دشتیاری) پائے کے دانشور بھی نعرہ مستانہ لگانے پر مجبور ہوں، حالات و واقعات کے تجزیہ کے بجائے لفاظی شعار بن چکی ہے رومانس ازم قوم دوست نظریہ کی جگہ لے چکی ہے۔ جس سائنسی تنظیمی ڈھانچے کوپیش نظر رکھ کر بی این ایم جیسی جماعتوں کی بنیادی رکھی گئیں تھیں بارہ سال بعد بھی اس
زیر نظر کالم مئی دوھزار نو میں انتخاب کے ایڈیٹر جناب انودر ساجدی کے ایک مضمون پر تبصرہ ہے ، انورساجدی کے اُٹھائے گئے سوالات کے تںاطر میں شہید واجہ کی سیاست کے اُس پہلو پر بات کی گئی ہے جس کی وجہ سے مخالفین آپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں ، شہید واجہ کے تیسرے یوم شہادت کی مناسبت سے اس تحریر کومعمولی قطع برید کے ساتھ قارئین کی خدمت میں مکرر پڑھنے کے لیے پیش کررہا ہوں ۔

چند دن صحافت کا طالب علم رہ کر مجھے اس بات کا شکوہ اپنے دوستوں سے نسبتاً کم ہے جوصحافیوں کے قلم کی کاٹ کو تلوار کی دھار دیکھنا چاہتے ہیں ۔ کیوں کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ بلوچستان میں اب تک صحافت نام کی کوئی چیز

29مارچ کے روزنامہ توار میں شائع ہونے والے مضمون کی خاص بات یہ ہے کہ اسے ڈاکٹر ناگمان نے لکھا ہے ؟ یااس سچ کو جامہ تحریر پہناناجو ہمدردان تحریک کے ذہنوں میں سنجیدہ خدشات کا باعث ہے ؟ یا جدید بلوچ قومی تحریک کے سیاسی محاذ کے بانی شہید واجہ ( غلام محمد ) کے بی این ایف سے متعلق وہ الفاظ جو بقول راقم اس کے پاس امانتاً محفوظ تھے ؟ جس نے مذکورہ مضمون پڑھا مندرجات کی سچائی ، افادیت اور طرز تحریر کی مجموعی پختگی پر اتفاق کیا ، تحریر میں کوئی ایسی بات نہیں کہ سخت اختلاف کیاجائے۔ایک ایسی تحریر جسے اجتماعی طور پر پڑھا گیا یعنی اس پر باہمی تبصروں اور تبادلہ خیال کے نتیجے میں مبہم باتوں کی گرہ کھولنے میں بھی آسانی کا اہتمام تھا ۔ مضمون میں بلوچ قومی تحریک کے سرکردہ رہنماؤ ں کے ساتھ میرا ذکر خیر مجھ جیسے طفلان مکتب کے لیے باعث حیرت بھی ہے اور سرشاری بھی ’’ ہم سے ہمارا ذکر اچھا جو اس محفل میں ہے ۔‘‘موضوع ایسا کہ میں اس پر واقعہ
اس مضمون کو بلوچی میں پڑھنے کے لیے کلک کریں ۔ 

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjnVDKozMs3zc4gY7eKKjtjwCJpP-O3QoRTTorWWB7NSIAG5T4qw7bYit7GrpSMzf93YARN-haUzftjJ5X2OmNmGktYlprfDeHYEkGhdiBwmTagOmb0FyD77unxVOh1cVuQNfhDZmqGBzw/s1600/openMind.jpg
صبح جب ہم اپنے بچوں کا ہاتھ پکڑکر اُنہیں اسکول چھوڑ نے کے بعد اپنے روزمرہ کے کام کو جاتے ہیں تو ہمیں کسی بھی لمحہ یہفکر دامن گیر نہیں رہتا کہ ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا ۔اسکول کے نام پہ کھڑی جس عمارت میں ہم اپنے بچوں کو چار گھنٹوں تک اُن لوگوں کے حوالے کر تے ہیں جن میں سے بیشتر کے نام تک ہم نہیں جانتے ،کیا ہمارے بچوں کی تربیت کر پائیں گے کہ کل وہ اپنے معاشرے میں باعزت مقا م حاصل کرکے اس کی تعمیر میں کردار اداکر سکیں گے ؟لیکن پھر بھی ہم بہتر ہیں اُن ہزاروں والدین سے جوابھی تک یہ نہیں سمجھتے کہ اُن کے بچوں کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری اُن کے کندھوں پر ہیں ۔

دانشوروں کی بڑی تعداد نیبھی عام اِنسانوں کی طرح تعلیم کے پیداوار ہونے کے باوجود بھی تعلیم کو ثانوی درجہ دیا ۔بھوک اور ننگے بدن پر شہرہ آفاق نظمیں اور کہانیاں گھڑی گئیں جس کی وجہ سے یہ تاثرعام ہے کہ اِنسان کے لیے سب سے زیادہ

عمرانی علوم (سوشیالوجی )سے متعلق بیانات اور نظریات کی خامی یہ ہے کہ ہر صاحب علم کا نکتہ نظر دوسرے سے مختلف ہے بعض علماءکی رائے مفہوم کے لحاظ سے یکساں لیکن کچھ کے زیادہ جامع اور واضح ہوتے ہیں اور کچھ علماءکی رائے دوسرو ں سے یکسر مختلف ہوتی ہے یہی اس علم کی خوبی بھی ہے کہ مسلسل سوچنے اور جدت لانے کے لیے وسیع کینوس فراہم کرتاہے جس سے صاحب بصیرت اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور سوچ کی گہرائیوں سے نئے مفہوم دریافت کرتے یا نئے نظریات پیش کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ سماج مادی وجود نہیں رکھتا بلکہ اس لیے کہ انسانی سرشت یکساں نہیں رہتی ۔سماج اور انسانی سر شت (رویہ ) ایک دوسرے کی تخلیق ہیں یہ جملہ حیران کن لیکن حقیقت سے قریب ہے کیوں کہ ایک بچہ جس سماج( ایک ایساگرو ہ جس میں رہنے والے افراد کی انفرادی سر گرمیاں اور رویے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوں ) میں جنم لیتاہے اس کے بیشتر عادت واطواراپنا لیتاہے ۔اس کی ثقافت ، زبان، مذہب اور تہذیب وغیرہ کو غیر اردادی یا ارادی طور پر قبول کرتاہے اور یہی بچہ اپنی منفرد سوچ کی بدولت انقلاب کا محرک بن کر سماج کی بنیاد ی قدروں کوبدلنے کاکارنامہ بھی


کسی سیاسی جماعت سے وابستہ لکھاری کے لیے لکھنا اس وقت کافی مشکل ہوتاہے جب اسے اپنے نظریات کا دفاع یا مخالفین پر تنقید کرنا ہو کیوں کہ ایسے وقت میں اس کی رائے عموماًاس کی جماعتی رائے سمجھ کراس کے علمی وفکری پہلوکو نظر انداز کیا جاتاہے یہی سلوک راقم کے ساتھ بھی روارکھا گیا ۔ جب میرا مضمون ’’کشتی ڈبونے والے ‘‘روزنامہ انتخاب میں 29ستمبرسے یکم اکتوبر 2009تک تین اقساط میں شائع ہواتو مضمون مکمل ہونے سے پہلے ہی رائے زنی کا ایک سلسلہ چل پڑا ناقدین موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی رائے سے نوازتے رہے ۔ نہ مخالفین کی تنقید پر میری پیشانی شکن آلود ہوئی نہ کہ حامیوں کے تعریفی کلمات پر باچھیں کھلیں کیوں کہ یہ سب میرے توقعات کے عین مطابق تھا۔ میں جس سماج میں رہ رہاہوں اس کے ارتقائی مرحلے سے واقف ہونے اور علماء کے منصب جلیلہ پر فائض
Powered by Blogger.