Showing posts with label قلندرکتھا. Show all posts
Showing posts with label قلندرکتھا. Show all posts
اشاریے :زامر : بلوچستان کے پہاڑوں میں پائی جانے والی ایک گھاس جسے ہرن شوق سے چرتے ہیں۔اللہ لیڑک:ساحلی کیڑا جو بلوچستان کے ساحل میں موسم گرما میںپایا جاتاہے ۔ہڈپروش: ایک قدیم سماجی رسم جس کے تحت باہر آئے سے ہوئے گروہ یا فرد کو بلوچ قوانین کی پاسداری اور انہیںکے مطابق رہنے کے شرط پر کسی بلوچ قبیلے میں شامل کیا جاتاہے ۔ ھڈپروش کے لغوی معنی ” ہڈی توڑ “ کے ہیں یعنی وہ جس کی ہڈی توڑی گئی ہو۔
٭٭٭
”زمین کو دسترخوان کی طرح لپیٹ دیں ،
احمد داد (بی آرپی کے مغوی رہنما ء) اِنٹر نیٹ پر چیٹنگ کے لیے ”شپ چراگ “کا نک نیم استعمال کرتے ہیں ۔میں نے یہ مضمون 10جون 2007کو لکھا ہے جو روزنامہ توار میں شائع ہوچکاہے ۔ آج اُن کے اغوا کے بعد اُن کی یاد آئی تو دوبارہ پڑھنے کوجی چاہا ‘آپ بھی پڑھیں ۔


میں آپ کو اس کہانی پر بلاچوں وچرا یقین کرنے کانہیں کہہ سکتا لیکن چونکہ یہ کہانی مجھے قلندر نے سنائی ہے اس لئے میر ے لئے اس پریقین کئے بناءکوئی چارہ نہیں ۔میں چاہتاہوں کہ آپ بھی اس کہانی کو سنیں ۔توآیئے کہانی کو دہراتے ہیں ۔”گرمی کے وسط میں موسلادھار بارشوں نے شہر کو جل تھل کیاہواتھا ۔بجلی پانی سمیت تمام معمولات متاثرتھے میں بھی ان متاثرین میں سے ایک اپنے شب وروز مشکلات میں بسر کررہاتھا ۔شب توجیسے تیسے گزرتے لیکن شا م یادگار رہے ۔انہی دنوں میری ملاقات شپ چراگ سے ہوئی ۔اس سے پہلے میری قلندر سے شناسائی تھی لیکن جتنا قلندر کا مرید شپ چراگ تھا ۔اتنا میں قلندر کی باتوں پر دھیان نہیں دیتاتھا۔یہ شپ چراگ ہی تھا جس کی سنگت مجھے

''ثنا خوان تقدیس مغرب کہاں ہے ؟......................بالے میاں خو ب ! ہمارے کانوں کو چھیدنے کے لیے صریرخامہ نوائے سروش ۔صفحہ پلٹو بوڑھے بلوچ کی نصیحت بھی کہیں لکھی ہوگی۔اس میں سے کچھ سنا ؤ، یہ سر زمین سے محبت کا فسانہ ہے ،ھڈیاں خاک ہوئیں 'خاک نعرہ زن ہے .................کفن یا وطن ۔''


قنلدر نے عورت کا موضوع چھیڑا ہے: ''یہ کہاں کا انصاف ہے کہ عور ت کو منصب خالقی سے بیک جنبش قلم ہٹاکر تخلیق کا حقیر درجہ دو۔لفظ الجھا دیتے ہیں خالق ، تخلیق ، مخلوق ۔لیکن ہم کیوں اُلجھیں یہ بجھارت نہیں سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لیے سلجھی ہوئی بات ہے ۔یہ اشرف المخلوقات ہے خالق بھی مخلوق بھی ۔

عورت کو جنس بناکر بے لبا س کردویہ دور جدید کا سوداگری دودمان

(Corporate Culture )

آفاقی اُصولوں کا بھی سودا کرتے ہیں ۔تقدس قلم ، حرمت الفاظ ......خوب تماشاہے۔ صحافت کے نام پر غلام قوم کے قلمی مزدوروں کو چوکور ڈبے میں بند کر کے کٹھ پتلی بنا دیا جاتاہے _______بے ڈور کے ہلنے والے گوشت پوست کے اچھے خاصے انسان 'گمنام بے چہرہ لوگوں کے جنبش ابر وپر حرکت کرتے ہیں ۔بڑے بڑے نام ڈاکٹر ، فاضل ، عالم۔ بڑے بڑے دعوے سچ ، علم، روشنی ، اکیڈمی ، نکتہ آغاز،میرے مطابق ، قلم کمان ، حسب حال ، بزان __________سب ناٹک سب کردار مفلوج ذہن کے کٹھ پتلی نما گوشت پوست کے اداکار ۔جن سے کہا جاتاہے کہ کان سے سنو نہیں سمجھو۔ان کے ذہن برتن ہیں جنہیں انہی دونوں چھیدوں سے بھرا جاتاہے جب یہ بھر جاتے ہیں توان کو ہر ایک کا ذہن خالی برتن معلوم ہو تاہے جنہیں یہ اپنی بے تکی باتوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کوئی ان کو سننے سے انکار کرئے تو ان کو غصہ آتا ہے اور یہ خو د کو خاک سمجھ کر نعرہ مستانہ بلند کرتے ہیں ________آزادی صحافت زندہ باد۔''

قلندر وجد میں آگئے اور بات عورت سے شروع


ضروری نوٹ

اس مضمون میں روزنامہ انتخاب میں چھپنے والے امان اللہ گچکی کے مضمون ”اور کشتی ڈوب گئی “ اور بلوچستان کے چھوٹے بڑے کرداروں کے خیالات پر ایک خاص اسلوب کے اندر کے تنقید کی کوشش کی گئی ہے ۔اسلوب کی وجہ سے تحریر میں بلوچ شہداءکے ناموں کے آگے شہیداور باباخیر بخش و دیگر قومی رہنماﺅں کے ناموں کے ساتھ قومی القاب استعمال نہیں کیے گئے ہیں ۔


مجھ میں صورت خان جتنی ذہانت نہیں اس لیے بلوچ اور بلوچستانی کا فرق نہیں جانتا۔اخبار بینی کا شوق ہے شہہ پاکر لکھتا بھی ہوں ۔جناب انور ساجدی کاممنون ہوں کہ انہوں نے ایک جملہ ”وقت اور حالات کا ادراک کیے بغیر بڑی بے جگری سے لڑتے ہوئے اپنی جان دیدی “لکھ کر مجھ سے ”غلام محمد کی سیاسی بصیرت “قلمبند کروایا ۔اب امان اللہ گچکی کا زیر بار ہوں جو”اور کشتی ڈوب گئی جیسی “شاہکار تخلیق کر کے مجھے اپنی طرف متوجہ کرگئے ۔میں ان سا سیانا تونہیں کہ دن کو رات لکھ کر دلیل سے ثابت کرسکوں کہ میں نے دن لکھا ہے ۔خاکسار کا زیر نظر مضمون اسی کمال فن کااعتراف ہے۔
تحریر کی پیشانی پر چسپاں توجہ نامہ میں ”آزادی اظہار “بھی توجہ سے پڑھا ۔سر زمین کی محبت میں آگ اور پانی سے گزرنے کا دعویٰ کس قدر سچاہے اس بحث میں کیوں اُلجھیں مجھے تو یہ تکنیک سمجھنی ہے کہ ”آساپ “میں چھپنے پرہمارے ارسال کردہ مضامین اوربیانات میں پنجاب شاہی '' اسٹبلشمنٹ '' اور آزادی '' حقوق ''کے لفظ سے کس طرح بد ل جاتا تھا ۔دوست خبر دیتے ہیں کہ
قلندر اپنے مخصوص وجدانی کیفیت میں آنکھیں بند کیے بڑبڑا رہاتھا”بلوچ سے لڑنا ہوگا.........تم تو تریسٹھ سالوں سے لڑ رہے ہویہ حر تو ہزاروں سالوں سے غلامی کے خلاف لڑتے آ رہے ہیں ۔تمہاری آواز میں تھکن کا واضح احساس ہوتاہے لیکن یہ اب بھی کہہ رہے ہیں کہ ”قربانیوں سے گھبرانے والے نہیں آزادی کے حصول تک جدوجہد جاری رکھیں گے ۔لڑیں گے مریں گے آزادی لے کر رہیںگے ۔اس جنگ میں تقدیر کی نہیں تدبیر کی جیت ہوگی اوراس دفعہ تدبیر نے جنگ کو چناہے ۔سر مچار پھولوں سے نہیں کانٹوں سے محبت کرتے ہیں ۔آل پنومعشوق کو نیا روپ دے رہے ہیں ۔محبت اور نفرت ان کے موثرترین ہتھیار ہیں ۔بلوچ گلزمین بلوچ راج سے محبت اوران سے نفرت کرنے والوں سے نفرت ۔”موذن صبا“ ہر نومولود کے کان میں اذان دینے کی بجائے دلوں میں زہر بھر رہے ہیں ......اس سے اچھا موقع اور کیا ہوسکتا ہے ہاں بلوچ سے
” شفق کی غیر معمولی لالی دیکھ کر ماں کہاکرتی تھی کہ آج دنیامیں کوئی شہید ہوئےہوں گے جس کے خون کے چھینٹوں سے چرخ سرخ رو ہے ۔اب کہ عقل سلیم ہو اچاہتاہے یہ خبر نہانی طشت ازبام ہے کہ مشرق سے مغرب کی طرف مراجعت کرتے وقت سورج کی تیرگی روشنی میں پیوست ہوکر شفق کو لالی عطاکرتی ہے ۔ماں نے نانی ماں کا مفروضہ بیان کیا ہوگا ۔“
”شہید کاخون بھی شب دیجور کے سینے میں روشنی کی طرح اُترتاہے “
”ہاں یہ سچ ہے لیکن یہ روشنی سپید ہ سحر جیسی ہوتی ہے جس میں روشنی تیرگی میں پیوست ہوتی ہے ۔ میری ماں بھولی ہے ۔اُو میری پیاری ماں تو اتنی انجان کیوں ہے ؟.......یہ آپ کی سادگی ہی ہے جو مجھ میں سرایت کرگئی ہے ۔اس لیے میں بھی ہمیشہ آدمی کے بنائے گئے تباہ کاری کے کھنڈرات کو دیکھ کر اس کی اس حر کت کودرندگی سے مشابہہ کرنے کی سعی کرتا رہتاہوں جو اپنے اعمال بدکو”شیطانیت ، وحشت اور
Powered by Blogger.